Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

اسلام آباد [ویب ڈیسوفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے پمز ہسپتال کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور جو بھی غفلت یا کوتاہی کا مرتکب پایا گیا، ’اسے نہیں چھوڑا جائے گا۔ہسپتال میں میڈیا سے گفتگو میں مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ’احتساب سب کے لیے ہو گا‘ اور انھوں نے خود اپنے آپ کو بھی احتساب کے لیے وزیرِ اعظم کے سامنے پیش کیا ہے۔وزیرِ صحت کے مطابق ابتدائی معلومات سے معلوم ہوتا ہے کہ صبح 6 بج کر 38 منٹ پر ایک چنگاری اٹھی، جو نرسوں کے بقول ممکنہ طور پر ایئرکنڈیشنر (اے سی) کے اندر سے نکلی۔ انھوں نے کہا کہ شعلہ زمین پر گرا اور واقعے کی ویڈیو بھی دستیاب ہے۔مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چھ بج کر 39 منٹ پر لوگ وارڈ سے نکلنا شروع ہوئے۔ اُس وقت وہاں دو ڈاکٹرز اور دو انچارج نرسیں موجود تھیں۔ فوٹیج کے مطابق چند افراد مدد طلب کرنے کے لیے دوڑے، تاہم ایک منٹ بعد پورا کمرہ آگ کی لپیٹ میں آ چکا تھا۔میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ مختلف ماہرین اور ادارے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں جبکہ حکومت بھی اپنی سطح پر انکوائری کر رہی ہے۔ ان کے بقول وزیرِ اعظم نے بھی تحقیقات کے احکامات جاری کر دیے ہیں اور تمام شواہد منظرِ عام پر لائے جائیں گے۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وارڈ میں موجود 15 بچوں میں سے 14 آکسیجن پر تھے اور انھیں ٹیوب کے ذریعے آکسیجن دی جا رہی تھی۔ ان کے مطابق ممکنہ طور پر آکسیجن نے آگ کو بھڑکانے میں کردار ادا کیا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ ایک حادثہ ہے، تاہم اگر کسی شخص نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی تو اسے قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔اسلام آباد کی فائر سیفٹی اتھارٹی کی جانب سے گذشتہ برسوں کے دوران جاری کیے گئے نوٹسز کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان کے علم کے مطابق جب بھی نوٹس موصول ہوئے، ان پر عمل درآمد کی پوری کوشش کی گئی۔وزیرِ صحت نے بتایا کہ آگ بجھانے کے لیے 26 فائر ایکسٹنگوئشر استعمال کیے گئے۔ انھوں نے کہا کہ ہسپتال میں سپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا (جس سے پانی کا چھڑکاؤ کر کے آگ بجھائی جا سکے) اور آگ بجھانے کے لیے سلنڈرز استعمال کیے جاتے تھے۔اخراجی راستوں کے بند ہونے سے متعلق سوال پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ چند برس قبل نومولود بچوں کے اغوا کے واقعات پیش آنے کے بعد ایک دروازہ بند کر دیا گیا تھا، جبکہ دوسرے دروازہ کھلا رکھا جاتا ہے اور اس پر 24 گھنٹے ایک سکیورٹی گارڈ تعینات رہتا ہے جو آنے اور جانے والے افراد کی جانچ پڑتال کے بعد خود دروازہ کھولتا اور بند کرتا ہے۔وزیرِ صحت سے سوال کیا گیا کہ کیا سانحے کے بعد وہ مستعفی ہوں گے؟ اس پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وہ اس معاملے پر جتنا کہہ سکتے تھے، کہہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے سربراہ وزیرِ اعظم پاکستان ہیں اور وہ ان کی ہدایات کے مطابق ہی بات کر سکتے ہیں، جبکہ مزید تفصیلات وقت آنے پر سامنے آ جائیں گی۔مصطفیٰ کمال نے توقع ظاہر کی کہ واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ آئندہ دو سے تین روز میں سامنے آ جانی چاہیے۔