Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

کوئٹہ(ویب ڈیسک) امیر جماعت اسلامی بلوچستان، ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ سیرتِ طیبہؐ پوری انسانیت کے لیے ہدایت،رحمت، عدل،امن اور کامیاب زندگی کا مکمل نمونہ ہے۔موجودہ دور کے تمام مسائل کا حل سیرتِ رسول اکرمؐ کی تعلیمات پر عمل،قرآن سے وابستگی اور اپنے انفرادی و اجتماعی کردار کی اصلاح میں ہے۔طلباء وطالبات اساتذہ سمیت ہرطبقہ فکر کے لوگوں کوسیرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کامطالعہ اوراس پرعمل کرناچاہیے۔قرآن وسیرت سے دوری کی وجہ سے آج ہم مشکلات کاشکارہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوادر یونیورسٹی میں سیرت النبی ؐکے حوالے سے منعقدہ ایک شاندار تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے گوادر یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر منظور احمد، پروفیسر رحیم بخش مہر اور معروف بلوچی مصنف اسلم تگرانی نے بھی خطاب کیا۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ رسول اللہ نے ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جہاں انسان کی جان، مال، عزت اور حقوق محفوظ تھے، عدل و انصاف قائم تھا، کمزوروں اور مظلوموں کا تحفظ کیا جاتا تھا اور حکمران خود کو عوام کا خادم سمجھتے تھے۔ آج امتِ مسلمہ اور خصوصاً ہمارے معاشرے کو سیرت النبیؐ سے حقیقی رہنمائی لینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آج معاشرہ بدامنی، بدعنوانی، ناانصافی، مہنگائی، بے روزگاری، اخلاقی زوال اور حقوق کی پامالی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ان حالات میں صرف تقریبات اور نعرے کافی نہیں بلکہ ہمیں سیرتِ رسول ؐکو اپنی عملی زندگی، سیاست، تجارت، تعلیم، معاشرت اور حکمرانی کا حصہ بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ نبی کریم ؐ نے ہمیں ظلم کے خلاف کھڑے ہونے، حق بات کہنے، امانت و دیانت اختیار کرنے، وعدہ پورا کرنے، پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنے، خواتین، بچوں، غریبوں اور کمزور طبقات کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے اور معاشرے میں عدل و انصاف قائم کرنے کی تعلیم دی ہے۔ آج ہماری سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم ان تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ نوجوان نسل ہمارا قیمتی سرمایہ ہے، انہیں سیرتِ رسول ؐ، قرآن کریم اور اسلامی اخلاق و کردار سے جوڑنے کے ساتھ جدید تعلیم اور ہنر کے مواقع فراہم کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کو محض ڈگریاں دینے کے بجائے ایسی نسل تیار کرنی چاہیے جو علم، کردار، دیانت اور خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار ہو۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام امن، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی حقوق کے مستحق ہیں۔ سیرتِ نبوی ؐ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کسی بھی علاقے، قوم یا طبقے کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔ ریاست اور حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ کریں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائیں۔امیر جماعت اسلامی بلوچستان نے کہا کہ ہمیں سیرت النبی ؐ کو صرف ربیع الاول کی تقریبات تک محدود نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے اپنی پوری زندگی کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ بنانا چاہیے۔ اگر فرد اپنے کردار کی اصلاح کرے، معاشرہ عدل و اخوت کو اختیار کرے اور حکمران امانت و دیانت کے ساتھ ذمہ داریاں ادا کریں تو ملک و قوم کو بحرانوں سے نکالا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی سیرتِ رسولؐ کی روشنی میں عدل، امن، دیانت، عوامی حقوق اور اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔