گوادر یونیورسٹی نیبی ایڈ نصاب میں چینی زبان، مصنوعی ذہانت شامل کرنے کی منظوری دیدی

اسلام آباد(ویب ڈیسک)یونیورسٹی آف گوادر (UoG) کے شعبہ تعلیم نے بیچلر آف ایجوکیشن (بی ایڈ) پروگرام میں چینی زبان کو آرٹس اینڈ ہیومینیٹیز کے مضمون کے طور پر شامل کرنے کی منظوری دیدی ہے جو مستقبل کے اساتذہ کو خطے اور عالمی سطح پر ابھرنے والے مواقع سے ہم آہنگ مہارتوں سے آراستہ کرنے کی جانب ایک اور اہم قدم ہے۔گوادر پرو کے مطابق یہ فیصلہ چھٹے بورڈ آف اسٹڈیز (BoS) کے اجلاس میں کیا گیا، جو پی سی ٹی اینڈ وی آئی کانفرنس روم میں ڈاکٹر رابعہ اسلم کی زیر صدارت منعقد ہوا۔رپورٹ کے مطابق چینی زبان کو نصاب میں شامل کرنا طلبہ کے علمی افق کو وسیع کرنے اور ان کی لسانی و بین الثقافتی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے یونیورسٹی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت تعاون میں مسلسل وسعت کے پیش نظر چینی زبان پر عبور ان فارغ التحصیل طلبہ کے لیے ایک اہم مہارت بنتی جا رہی ہے جو تعلیم، کاروبار، ثقافتی تبادلوں اور علاقائی ترقی کے شعبوں میں مواقع کے خواہاں ہیں۔چینی زبان کے ساتھ بورڈ نے بی ایڈ پروگرام میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو بھی بین الشعبہ جاتی مضمون کے طور پر شامل کرنے کی منظوری دی ہے، جس کا مقصد مستقبل کے اساتذہ کو بدلتے ہوئے تعلیمی منظرنامے سے متعلق علم اور مہارتوں سے لیس کرنا ہے۔گوادر پرو کے مطابق اجلاس کے دوران ارکان نے اساتذہ کی تعلیم کے معیار اور افادیت کو مزید بہتر بنانے کیلئے مختلف تعلیمی اور نصابی امور کا جائزہ لیا۔ بورڈ نے بی ایڈ طلبہ کے لیے پیشہ ورانہ سرٹیفکیشن کی ضروریات، سمسٹر فریز کے بعد طلبہ کی دوبارہ شمولیت سے متعلق پالیسی، متعلقہ پروگراموں کے لیے لازمی انٹرن شپ اور بعض منتخب مضامین کے نصاب میں نظرثانی کی بھی منظوری دی، تاکہ انہیں عصرِ حاضر کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ ضروریات سے مزید ہم آہنگ کیا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *