کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے کم عمر بچیوں کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنے کے مبینہ منصوبے کو ناکام بنا دیا، صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء  لانگو

کوئٹہ(ویب ڈیسک) صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء  لانگو نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر بروقت کارروائی کرتے ہوئے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے کم عمر بچیوں کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنے کے مبینہ منصوبے کو ناکام بنا دیا، کارروائی کے دوران 16 سالہ زینب اور 12 سالہ فاطمہ کو حراست میں لے لیا گیا۔کوئٹہ میں دونوں کم عمر بچیوں کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے میر ضیاء  لانگو نے کہا کہ فتنہ الہندستان کے ناپاک کردار اور دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے کم عمر بچوں کو استعمال کیا جارہا ہے۔صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی ایک واقعہ رونما ہونے پر سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں، تاہم سیکیورٹی فورسز بروقت کارروائیوں کے ذریعے ایسے متعدد ممکنہ واقعات کو بھی ناکام بنا رہی ہوتی ہیں جن کی معلومات عام نہیں ہوتیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ جنوبی بلوچستان میں فتنہ الہندستان سے وابستہ عناصر نے دونوں کم عمر بچیوں کو ورغلا کر خودکش حملوں کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ زینب کے شوہر سیف سمیت خاندان کے دیگر افراد کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ بعد ازاں ایک مقامی کمانڈر نے زینب اور اس کے اہل خانہ سے رابطے کر کے انہیں اداروں کے خلاف جذباتی طور پر بھڑکانے کی کوشش کی۔پریس کانفرنس میں موجود 16 سالہ زینب نے بتایا کہ اسے اس کے شوہر کے قتل کا الزام اداروں پر عائد کرتے ہوئے بدلہ لینے پر آمادہ کیا گیا۔ اس نے بتایا کہ اس کی 12 سالہ کزن فاطمہ بھی رابطے میں آئی، جس کے والد کو بھی دہشت گردی میں قتل کیے جانے کے بعد مبینہ طور پر جذباتی طور پر متاثر کر کے تنظیم کے لیے کام کرنے پر آمادہ کیا گیا۔زینب اور فاطمہ کے مطابق وہ دونوں مبینہ طور پر تنظیم کے افراد کے ساتھ ایک نامعلوم مقام پر پہنچیں جہاں انہیں تقریباً 40 روز تک رکھا گیا۔ دونوں بچیوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے خودکش حملے سے انکار کیا اور گھر واپس جانے کی خواہش ظاہر کی تو انہیں تشدد اور ہراساں کرنے کا نشانہ بنایا گیا۔12 سالہ فاطمہ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس کے والد کے قتل کے بعد اسے مبینہ طور پر بتایا گیا کہ اس کے والد کو سرکار نے قتل کیا ہے اور اسے حکومت کے خلاف خودکش حملہ کرنا چاہیے۔ اس نے کہا کہ وہ اور زینب ایک نامعلوم مقام پر تقریباً چالیس روز تک رہیں، تاہم بعد میں دونوں کو احساس ہوا کہ وہ یہ کام نہیں کر سکتیں اور انہوں نے گھر واپس جانے کا مطالبہ کیا۔میر ضیاء  لانگو کے مطابق نامعلوم مقام سے دونوں بچیوں کو دوسری جگہ منتقل کیے جانے کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کی اور انہیں حراست میں لے لیا، جس سے ان کی جان بچ گئی۔دونوں بچیوں نے پریس کانفرنس کے دوران سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نئی زندگی ملی ہے۔ ان کی جانب سے حکومت اور قوم سے عام معافی کی استدعا بھی کی گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *