Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

لاہور(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے پمز واقعے پر استعفے سے متعلق بات کرنے سے منع کیا ہے، اس معاملے میں میری ان کے ساتھ کچھ کمٹمنٹس ہیں،اگر انکوائری کمیٹی استعفے کا مطالبہ کرتی ہے تو انہیں اس معاملے میں سرپرائز ملے گا،پمزہسپتال میں 14 نومولود بچوں کی اموات کے واقعے کی تحقیقات کے لیے وزیراعظم کی جانب سے قائم کی گئی اعلی سطحی کمیٹی نے 8 افراد اور ایک سکیوڑٹی کمپنی کو ذمہ دار قرار دیا ہے،انکوائری کمیٹی کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور حتمی طور پر آگ لگنے کی پہلی وجہ کا تعین فرانزک ٹیسٹ کے بعد ہی ہو سکے گا۔ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ کمیٹی کو اختیار حاصل ہے کہ وہ جس شخص کو چاہے طلب کرے، اس کا انٹرویو کرے اور تحقیقات کے لیے متعلقہ اداروں سے تعاون حاصل کرے۔ کمیٹی کے پاس ڈیجیٹل معلومات، تمام ریکارڈ، ویڈیوز اور عینی شاہدین کی معلومات بھی موجود ہیں جبکہ تکنیکی معاونت کے لیے دیگر اداروں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔مصطفی کمال نے کہاکہ پاکستان میں عام طور پر انکوائری کمیٹیوں کی رپورٹس پر سوالات اٹھتے ہیں اور کئی مرتبہ ان رپورٹس سے کوئی نتیجہ نہیں نکلتا، تاہم پمز سانحے کی ابتدائی رپورٹ میں تمام ملبہ چھوٹے عملے پر نہیں ڈالا گیا بلکہ وہ افراد بھی کارروائی کی زد میں آئے ہیں جو 20، 20 سال سے وہاں کام کررہے ہیں اور بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔وزیر صحت نے اپنے استعفے سے متعلق سوال پر کہا کہ اس معاملے میں ان کی وزیراعظم کے ساتھ کچھ کمٹمنٹس ہیں اور وزیراعظم نے انہیں اس حوالے سے گفتگو نہ کرنے کا کہا ہے۔یہ ان کے اور وزیراعظم کے درمیان کا معاملہ ہے، اس لیے وہ نہ تو ہاں میں جواب دے رہے ہیں اور نہ ہی یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا،اگر انکوائری کمیٹی ان سے استعفے کا مطالبہ کرتی ہے تو انہیں اس معاملے میں سرپرائز ملے گا۔پمز ہسپتال کو مستقبل میں کسی اور سانحے سے محفوظ بنانے سے متعلق سوال پر مصطفی کمال نے کہاکہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ پمز ہسپتال اب مکمل طور پر محفوظ ہے اور مستقبل میں کوئی حادثہ نہیں ہوگا۔حکومت پہلے سے بھی اس معاملے پر کام کررہی تھی، تاہم سانحہ پیش آنے کے بعد کام مزید جاری ہے۔یہ ایک دن کا کام نہیں ہے اور کسی بھی وقت یہ دعوی نہیں کیا جا سکتا کہ اب کوئی سانحہ پیش نہیں ہوگا۔مصطفی کمال نے سرکاری ہسپتالوں کے موجودہ انتظامی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ سرکاری ہسپتالوں میں سرکار کے پے رول پر کام کرنے والے افراد نہیں ہونے چاہئیں بلکہ کنٹریکٹ ملازمین ہونے چاہئیں۔انہوں نے تجویز دی کہ ایسے ملازمین کو مناسب معاوضہ دیا جائے، جزا و سزا کا موثرنظام قائم کیا جائے، سی ای او مقرر کیا جائے اور بورڈ بنایا جائے، جبکہ جو شخص کام نہ کرے اسے فوری طور پر فارغ کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔موجودہ نظام میں کسی ملازم کو فارغ کرنے کے لیے شوکاز نوٹس، معطلی اور پھر برطرفی سمیت ایک طویل طریقہ کار اختیار کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث انتظامی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی پہلے دن سے یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر ذمہ داری کا تعین ہونا ہے تو ان سے شروع کیا جائے،جب پمز سانحہ پیش آیا تو کراچی میں تھااور پہلی فلائٹ سے اسلام آباد پہنچا،سب سے پہلے عوامی سطح پر یہ بات کی کہ وہ ذمہ دار ہیں اور ان سے احتساب شروع کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر آئین اور قانون میں یہ طے کر دیا جائے کہ آئندہ کسی بھی حادثے کی صورت میں متعلقہ وزیر استعفیٰ دے گا تو وہ سب سے پہلے اپنا استعفیٰ دینے کے لیے تیار ہیں۔عمران خان کو پمز لانے کی کوشش اور اس دوران ہسپتال کی سکیورٹی سے متعلق سوال پر مصطفی کمال نے کہاکہ جس حوالے سے شفا ء ہسپتال اور پمز کی سکیوڑٹی کی بات ہو رہی تھی شاید وہاں کراؤڈ جمع تھا تاہم انہیں اس بارے میں مکمل علم نہیں۔بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے پمز سانحے سے توجہ ہٹانے کے لیے ان کی شادی کا ذکر کیے جانے سے متعلق سوال پر مصطفی کمال نے کہا کہ یہ ان کی اپنی رائے ہے اور انہیں معلوم نہیں کہ بلاول بھٹو نے کیا کہا ہے۔وہ بلاول بھٹو کے بیانات کو فالو نہیں کرتے اور انہیں اس بات کا علم نہیں کہ شادی کے حوالے سے کیا گفتگو ہوئی۔انہوں نے کہاکہ اگر ملک کا نظام موجودہ طریقے سے نہیں چل پا رہا اور وفاق اپنا کام پورا کر دیتا ہے لیکن نچلی سطح پر ڈیلیوری نہیں ہو رہی تو انتظامی یونٹس میں تبدیلی کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے،یہ دلیل درست نہیں کہ چونکہ صوبوں نے پاکستان بنایا تھا اس لیے پاکستان میں انتظامی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔