Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

دالبندین(ویب ڈیسک) محکمہ صحت اور نیوٹریشن ڈائریکٹوریٹ بلوچستان کے زیر اہتمام ضلع چاغی میں ورلڈ بریسٹ فیڈنگ منتھ کے سلسلے میں ڈی ایچ او آفس دالبندین میں پریس بریفنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ماں کے دودھ کی اہمیت، بچوں کی بہتر نشوونما اور غذائی مسائل سے متعلق آگاہی دی گئی۔پریس بریفنگ سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر چاغی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر جاوید حسن سیاہ پاد اور ڈسٹرکٹ نیوٹریشن کوآرڈینیٹر خلیفہ عبدالباسط ایجبانی نے خطاب کیا۔ اس موقع پر محکمہ صحت کے افسران، لیڈی ہیلتھ ورکرز، نیشنل پروگرام کے اہلکاروں اور میڈیا نمائندگان نے شرکت کی۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ ماں کا دودھ بچے کے لیے قدرتی، مؤثر اور زندگی بچانے والی غذا ہے، جو بچے کی بقا، جسمانی و ذہنی نشوونما اور بیماریوں سے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زندگی کے ابتدائی ایک ہزار دن بچے کی صحت اور مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہیں، اس دوران ماں کا دودھ بہترین غذا فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں تقریباً 61.1 فیصد مائیں بچے کی پیدائش کے پہلے گھنٹے میں دودھ پلانا شروع کرتی ہیں، تاہم اس شرح میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ آگاہی کی کمی، بعض ثقافتی روایات، کام کی جگہوں پر سہولیات کا فقدان اور صحت مراکز میں محدود تعاون ماں کے دودھ پلانے کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ڈسٹرکٹ نیوٹریشن کوآرڈینیٹر خلیفہ عبدالباسط ایجبانی نے کہا کہ نیوٹریشن ڈائریکٹوریٹ، یونیسف، لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام اور ضلعی محکمہ صحت کے تعاون سے اگست کے پورے مہینے میں ضلع چاغی سمیت بلوچستان بھر میں آگاہی سرگرمیاں جاری ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ماؤں، نگہداشت کرنے والوں، مذہبی رہنماؤں اور مقامی کمیونٹی کے ساتھ آگاہی سیشنز، سیمینارز اور بریسٹ فیڈنگ واک سمیت مختلف پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں، جبکہ اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ و اساتذہ کو بھی ابتدائی غذائیت کی اہمیت سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔خلیفہ عبدالباسط ایجبانی نے کہا کہ ماں کے دودھ کو فروغ دینا صرف ماں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کا فرض ہے۔ کام کی جگہوں پر ماؤں کے لیے سازگار ماحول، زچگی کے دوران مؤثر مشاورت، ڈبے کے دودھ کی غیر ضروری تشہیر کی روک تھام اور کمزور بچوں کی بروقت دیکھ بھال کے ذریعے بچوں کو صحت مند اور محفوظ مستقبل فراہم کیا جا سکتا ہے