ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے اس آئینی خلاف ورزی پر چپ سادھ رکھی ہے، آل پاکستان فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز بلوچستان

کوئٹہ (ویب ڈیسک) آل پاکستان فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز بلوچستان اور بلوچستان لیبر فیڈریشن کا مشترکہ اجلاس خورشید لیبر ہال کوئٹہ میں زیر صدارت محمد رمضان اچکزئی منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبے کی دونوں بڑی فیڈریشنوں کے رہنماؤں حاجی محمد رمضان اچکزئی، خان زمان، محمد یار علیزئی، عبدالعزیز شاہوانی، قاسم خان کاکڑ، سید آغا محمد، عابد بٹ، عارف خا ن نیچاری،محمد عمر جتک، ملک افتخار احمد، دین محمد محمد حسنی، ملک وحید کاسی،ملک نصیر احمد، نجیب اللہ مری اور دیگر تنظیموں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں بلوچستان کے اندر مزدوروں پر بین الاقوامی قوانین، آئی ایل او کے کنونشن 87، 98، آئین کی دفعہ9،10، 16،17، 19 اور 25 کے علاوہ آئی آر اے 2012 اور BIRA-2010 ترمیمی آرڈیننس کو بالا طاق رکھتے ہوئے مزدوروں کو غلام بنانے پر مجبور کیے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے اس آئینی خلاف ورزی پر چپ سادھ رکھی ہے۔ عدالت عالیہ بلوچستان نے دو یونینوں کے کیس میں بلوچستان کی 62 ٹریڈیونینز پر پابندی عائد کردی  اور اس وقت کے ڈی جی لیبر ویلفیئر کو مجبور کیا گیا کہ وہ 62 یونینز کی رجسٹریشن منسوخ کرے۔اس طرح صوبے میں بین الاقوامی قوانین، آئی ایل او کے کنونشنز، آئین اور قانون کی خلاف ورزی کے برخلاف 62 یونینز پر پابندی عائد کی گئی اور یہ پابندی صرف بلوچستان میں لگائی گئی  تاکہ یہاں غریب محنت کش طبقہ اپنی حقوق کیلئے اجتماعی آوازکو بلند نہ کرسکے۔ اجلاس میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ 62 یونینز کی بحالی کی اپیل سپریم کورٹ آف پاکستان  میں 2019 سے چل رہی ہے اور اس انتہائی اہم بنیادی انسانی حقوق کے اہم معاملے پر کوئی فیصلہ نہ ہو سکا اور اب یہ کیس وفاقی آئینی عدالت کے قیا م کے بعد سے تاحال غائب ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور ناانصافی کی بد ترین مثال ہے۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ عدالت عالیہ بلوچستان کا 62 یونینز سے متعلق فیصلہ آئی ایل او کنونشنز اور آئین و قانون کے منافی ہے اس لیے اس فیصلے کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا گیا لیکن فیصلہ نہ آنے تک آئی آر اے 2012 اور BIRA-2010 کے تحت صوبے کی تمام یونینز کو بطور ٹریڈ یونین کام کرنے کی اجازت ہے اور یہ تمام ٹریڈ یونینز کوشش کرے گی کہ وہ اپنے اداروں کے سربراہان کے ساتھ اچھے روابط کے تحت مزدور مسائل کے حل کے ساتھ عدالتی محاز پر اپنی رجسٹریشن اور سی بی اے کا اسٹیٹس بحال کرے گی۔اجلاس میں وفاقی آئینی عدالت کے حکم کے باوجود بلوچستان میں دوران سروس فوت ہونے والے ملازمین کے حقیقی ورثاء کی بھرتیاں نہ ہونے اور سیاسی بنیادوں پر تعیناتیاں کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اجلاس میں محکمہ بی ڈی اے، واسا، کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے مزدور مسائل پر لائحہ عمل طے کیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ حکومت فوری طور پر آئین کی پاسداری کرتے ہوئے عملی اقداما ت اٹھائیں۔اجلاس میں اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ تمام محکموں میں کرپشن عروج پر ہے ہر محکمے میں اربوں روپے کی کرپشن کی خبریں باہر آرہی ہیں لیکن اس کرپشن پر کسی کے خلاف کاروائی نہ ہونے پر صوبائی اسمبلی میں بھی خاموشی طاری ہے۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت تمام سیاسی جماعتیں عوام کو انصاف، روزگار کی فراہمی،مہنگائی و بے روزگاری کے خاتمے، بد امنی و بد عنوانی سے نجات پٹرولیم مصنوعاعت اوراشیائے خوردونوش کی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور اس کی فراہمی میں ناکام ہو چکے ہیں۔عوام کا اعتماد بد ترین گورننس، ناانصافی  اور ظلم کی وجہ سے حکومتوں او ر اداروں پر ختم ہو چکا ہے جس کی وجہ سے عوام سخت غیض و غضب میں ہے۔ اجلاس میں مفاد عامہ کے قومی اور صوبائی اداروں کی نجکاری کو اشرافیہ کی لوٹ سیل قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اسی طرح آئی پی پیز کے ذریعے پاور سیکٹرکو تباہ کیا گیا، بجلی کی قیمتیں پڑوسی ملک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے ملک میں صنعت، زراعت، سیاحت اور گھریلو صارفین پر بوجھ بڑھنے کی وجہ سے یہ شعبے شدید تباہی کے دہانے پہنچ چکے ہیں۔نوجوان طبقہ ملک کا مستقبل ہے اور بے روزگاری کی وجہ سے ملک کا نوجوان طبقہ بد امنی پھیلانے والوں کے ہاتھوں استعما ل ہو رہا ہے جس کی وجہ سے عام شہریوں، مزدوروں اور بے گناہ افراد کا قتل عام ہو رہا ہے۔حکمران طبقے کو چاہیے کہ وہ
 اداروں کی نجکاری کی بجائے اصلاحاتی نظام کے ذریعے قابل، پروفیشنل اور ایماندار سربراہان کے ذریعے اداروں کو بہتر گورننس کے ذریعے چلایا جائے اور اگر نجکاری کی ضرورت ہو تو بطور اسٹیک ہولڈر حقیقی یونین رہنماؤں سے بات چیت کے  ذریعے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔ اجلاس میں کیسکو میں تحفظ مانگنے پر مزدوروں کی بڑی تعداد میں سے 31 مزدوروں کو بلا وجہ معطلی اور جوابد ہی کرنا بنیادی انسانی حقوق اور کیسکو کی سیفٹی پالیسی کے برخلاف ہے۔ اجلاس میں آل پاکستان فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز اور واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین کی مزدور جدوجہد کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا گیااور کہا گیا کہ بلوچستان بھر میں تمام مزدور یونینیں اور کارکن اپنے آئینی اور قانونی حقوق کیلئے جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *