مہنگائی 9.66 فیصد کی تیزی سے بڑھ رہی ہے، غریب عوام پس رہے ہیں، ، سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ (ویب ڈیسک) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی کا سالانہ بنیادوں پر 9.66 فیصد بڑھنا انتہائی تشویشناک ہے، مہنگائی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اس سے غریب اور متوسط طبقہ بری طرح پس رہا ہے، حکومت کو مہنگائی پر قابو پانے اور عوام کو فوری ریلیف دینے کے لیے اپنی پوری توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ 23 بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے شدید مالی دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔ دودھ، جو شیرخوار بچوں کی بنیادی ضرورت ہے، 250 روپے فی لیٹر جبکہ بکرے کا گوشت 3 ہزار روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے۔ پیاز کی قیمت میں 14.17 فیصد، پٹرول میں 3.77 فیصد، مرغی میں 3.35 فیصد اور لہسن میں 2 فیصد اضافہ عام آدمی کے گھریلو بجٹ کو مزید متاثر کر رہا ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ پاکستان میں چند بڑے منافع خور اور مافیاز اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کرنے میں مسلسل کردار ادا کرتے ہیں۔ ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت اور ناجائز منافع خوری کے ذریعے قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں جبکہ غریب عوام کو اس کا براہ راست بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ حکومت کو ان بڑے مافیاز کے خلاف مؤثر اور بلاامتیاز کارروائی یقینی بنانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجوہات میں کمزور مارکیٹ نگرانی اور رسد و طلب کے نظام پر ناکافی گرفت بھی شامل ہے۔ تحصیل اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کارروائیاں مستقل اور مؤثر ہونی چاہئیں۔ وقتی اور نمائشی اقدامات سے عوام کو دیرپا ریلیف نہیں مل سکتا۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی محض ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ عام آدمی کی زندگی کا بنیادی مسئلہ ہے۔ پٹرولیم مصنوعات، خوراک، بجلی، ٹرانسپورٹ اور دیگر ضروری اخراجات میں اضافہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں غریب اور متوسط طبقے کی قوت خرید مسلسل کم ہو رہی ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ حکومت کو مہنگائی پر قابو پانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو متحرک کرنا ہوگا، صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کو جواب دہ بنانا ہوگا اور مارکیٹ مانیٹرنگ کے نظام کو مؤثر بنانا ہوگا۔ ذخیرہ اندوزوں، منافع خوروں اور بڑے مافیاز کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کے بغیر قیمتوں میں پائیدار استحکام ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح اس وقت عام آدمی کو مہنگائی کے بوجھ سے نکالنا ہونی چاہیے۔ غریب عوام پہلے ہی مہنگائی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں، انہیں مزید معاشی دباؤ سے بچانے کے لیے حکومت کو فوری اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ چند منافع خور اور مافیاز حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے رہیں اور ریاستی مشینری خاموش تماشائی بنی رہے تو مہنگائی پر قابو پانے کے تمام دعوے بے معنی ہو جائیں گے۔ پائیدار حل صرف اعلانات میں نہیں بلکہ مسلسل مارکیٹ نگرانی، فوری کارروائی، شفاف قیمتوں کے نظام اور مؤثر احتساب میں ہے۔ عوام کو حقیقی ریلیف اسی وقت ملے گا جب حکومت مارکیٹ میں اپنی رٹ قائم کرتے ہوئے بڑے مافیاز اور منافع خور عناصر کو قیمتوں میں من مانی کا اختیار نہیں دے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *