ضلع ہرنائی کے علاقے شاہرگ میں خلیفٹ پہاڑ کے دامن میں پیش آنے والا واقعہ نہایت افسوسناک اور تشویشناک ہے، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

کوئٹہ (ویب ڈیسک) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے ضلع ہرنائی کے علاقے شاہرگ میں خلیفٹ پہاڑ کے دامن میں پیش آنے والے نہایت افسوسناک اور تشویشناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاہرگ کے کلی فیض آباد کے رہائشی اپنے گھروں کے لیے ایندھن اور لکڑیاں لانے کی غرض سے خلیفٹ پہاڑ کے دامن میں گئے تھے کہ وہاں مسلح افراد اور دہشت گردوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ حملے کے نتیجے میں عبدالخالق موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ ان کے ساتھی عیسیٰ گل شدید زخمی ہوئے۔ اسی دوران مسلح افراد نے چار کمسن بچوں کو بھی اپنے ساتھ اغوا کر لیا، جن کی عمریں تقریباً 13، 15 اور 16 سال بتائی گئی ہیں۔ پارٹی نے اس افسوسناک واقعے کو نہایت سنگین انسانی المیہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہری اپنے روزمرہ کے معمولات اور ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کے لیے گھروں سے نکلتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے صوبے کے مختلف علاقوں میں انہیں بھی دہشت گردی، اغوا، ٹارگٹ کلنگ اور مسلح حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عوام کو جان و مال کا تحفظ فراہم کرنا ریاست اور حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن موجودہ صورتِ حال میں عام شہری خود کو غیر محفوظ سمجھنے پر مجبور ہیں۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران پشتونخوا وطن کے مختلف علاقوں، بالخصوص ہنہ اوڑک، زیارت، سرانان، قلعہ عبداللہ، پشین، ہرنائی اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے مسلسل خونریز واقعات نے عوام میں شدید خوف و ہراس اور عدمِ تحفظ پیدا کر دیا ہے۔ ہنہ اوڑک میں مسلح حملے کے دوران شہریوں کی ہلاکتوں اور متعدد افراد کے لاپتہ یا اغوا ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ زیارت کے علاقے مانگی میں پولیس اہلکاروں پر ہونے والے حملے میں متعدد اہلکار شہید ہوئے۔ پارٹی نے مزید کہا کہ سرانان جیسے اہم اور گنجان آباد علاقے میں پولیس تھانے پر مسلح حملہ کرکے اسے تباہ کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امن و امان کی صورتِ حال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔ سرانان کوئٹہ، چمن اور پشین کے درمیان اہم شاہراہ پر واقع ہونے کے باوجود اس نوعیت کا واقعہ حکومت اور ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ اسی طرح قلعہ عبداللہ میں بھی حالیہ دنوں کے دوران پولیس اہلکاروں پر فائرنگ، پولیس چوکی پر دستی بم حملے اور دیگر پْرتشدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ عوامی احتجاج اور شاہراہوں کی بندش کے واقعات بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شہری اپنے تحفظ اور امن کے حوالے سے شدید اضطراب کا شکار ہیں۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ مزدور، کسان، طلبہ، عام شہری، پولیس اہلکار اور دیگر محنت کش طبقات مسلسل دہشت گردی اور بدامنی کا شکار ہو رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں سرانان کے علاقے میں تعمیراتی منصوبے پر کام کرنے والے مزدوروں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ دہشت گردی کا دائرہ عام شہریوں اور محنت کشوں تک وسیع ہو رہا ہے۔ پارٹی نے حکومت اور تمام متعلقہ ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا کہ شاہرگ کے خلیفٹ پہاڑ کے دامن میں پیش آنے والے واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، عبدالخالق کے قتل کے ذمہ دار مسلح افراد کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، زخمی عیسیٰ گل کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور سب سے بڑھ کر اغوا کیے گئے چاروں بچوں کو فوری اور بحفاظت بازیاب کرایا جائے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ دہشت گردی، اغوا، ٹارگٹ کلنگ اور مسلح جتھوں کے ذریعے عوام کو خوفزدہ کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت محض بیانات اور دعووں تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات اٹھائے اور پشتونخوا وطن کے تمام علاقوں میں شہریوں کے جان و مال، کاروبار، آمدورفت اور روزمرہ زندگی کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ ہنہ اوڑک، زیارت، سرانان، قلعہ عبداللہ، پشین، ہرنائی اور دیگر متاثرہ علاقوں میں پیش آنے والے تمام واقعات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے اور عوام کو مستقل بنیادوں پر تحفظ فراہم کیا جائے۔ حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ کسی بھی شہری، خصوصاً کمسن بچوں کو اغوا کرکے ان کے خاندانوں کو اذیت اور بے یقینی میں مبتلا نہ کیا جا سکے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے شہید عبدالخالق کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی اور زخمی عیسیٰ گل کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *