Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
تربت(ویب ڈیسک)نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے حالات انتہائی خراب ہوچکے ہیں، روزانہ نوجوانوں کی لاشیں گرنے اور لوگوں کے لاپتہ ہونے کے واقعات تشویشناک حد تک بڑھ گئے ہیں، چوری، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے، جبکہ دونوں فریق جنگی حکمت عملی پر کاربند ہیں اور ایک دوسرے سے مذاکرات کے لیے تیار نہیں، جس کا سب سے بڑا نقصان بلوچ عوام کو ہوگا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر موجودہ صورتحال مزید شدت اختیار کرتی ہے تو بلوچ عوام پناہ گزین بننے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔وہ نیشنل پارٹی کے مرکزی و ضلعی رہنماؤں کے ہمراہ تربت پریس کلب کے نو تزئین و مرمت شدہ آڈیٹوریم اور زیرِ تعمیر نئی عمارت کے دورے کے موقع پر آڈیٹوریم میں گفتگو کررہے تھے۔ اس موقع پر تربت پریس کلب کے صدر حافظ صلاح الدین سلفی نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو آڈیٹوریم، پریس کلب کی زیرِ تعمیر عمارت اور دیگر امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے حالات اس قدر خراب ہوچکے ہیں کہ ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب نوجوانوں کی لاشیں نہ گریں یا لوگ لاپتہ نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اب صورتحال میں بھتہ خوری بھی شامل ہوگئی ہے اور مجموعی طور پر بلوچستان میں جنگی کیفیت پیدا ہوچکی ہے، جس میں عام شہری شدید بے یقینی اور خوف کا شکار ہیں۔انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ سیمینار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ہونے والی گفتگو سے بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ بلوچستان کے حالات ٹھیک نہیں ہیں، کیونکہ دونوں فریق ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات اور سیاسی مکالمہ ہی مسائل کے حل کا راستہ ہے، تاہم موجودہ حالات میں جنگی حکمت عملی اختیار کرنے سے صورتحال مزید پیچیدہ اور سنگین ہوتی جارہی ہے۔سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ ماضی میں جب ضلع کیچ یا تربت کے دور دراز علاقوں میں حالات خراب ہوتے تھے تو لوگ محفوظ سمجھ کر تربت شہر کا رخ کرتے تھے، لیکن اب خود تربت شہر کے حالات بھی خراب ہورہے ہیں، ایسے میں لوگ کہاں جائیں گے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر حالات مزید بگڑے اور جنگی صورتحال میں شدت آئی تو لوگوں کے لیے رہنے کی جگہ تک مشکل ہوجائے گی۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ دونوں فریقین کے بیانات اور موجودہ جنگی حکمت عملی کو دیکھ کر یہ خوف پیدا ہورہا ہے کہ کہیں بلوچ عوام اپنے ہی علاقوں سے نقل مکانی کرکے پناہ گزین بننے پر مجبور نہ ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ چوری، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان اور دیگر جرائم پہلے ہی عام ہورہے ہیں اور اگر صورتحال کو قابو نہ کیا گیا تو یہ مزید خطرناک نہج تک پہنچ سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے اپنے قیام کے آغاز ہی سے اداروں کے قیام اور انہیں مضبوط بنانے پر توجہ دی ہے۔ تعلیم، صحت، آزادی? اظہار، زبان و ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں اداروں کا قیام قوموں کی تشکیل اور استحکام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک مضبوط ادارے قائم نہیں ہوتے، قومیں نہ تو منظم طور پر تشکیل پاتی ہیں اور نہ ہی انہیں دیرپا استحکام حاصل ہوتا ہے۔تربت پریس کلب کے حوالے سے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ تربت پریس کلب کو مزید وسعت اور سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ پریس کلب کے اطراف موجود فٹبال کلب اور دیگر دفاتر کو متبادل جگہ منتقل کرکے پورے علاقے کو پریس کلب کے لیے مختص کیا جانا چاہیے تاکہ صحافیوں کو بہتر ماحول اور ضروری سہولیات میسر آسکیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ اگر آئندہ بھی حکومت قائم رہی تو وہ آئندہ بجٹ میں تربت پریس کلب کی مزید سہولیات اور ترقیاتی کاموں کی تکمیل کے لیے ایک کروڑ روپے فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ تربت پریس کلب کوئٹہ کے بعد بلوچستان کا دوسرا بڑا پریس کلب ہے، اس لیے اسے جدید صحافتی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے تربت میں صحافت کے شعبے میں نئے نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ پریس کلب میں مزید صحافیوں کی ضرورت ہے۔ نئے نوجوانوں کو ممبرشپ دی جائے تاکہ وہ صحافت کے میدان میں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لاسکیں اور علاقے کے مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کرسکیں۔انہوں نے تربت پریس کلب کے ملکی سطح پر دیگر بڑے پریس کلبوں کے ساتھ روابط اور کوآرڈینیشن مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ صحافتی اداروں کے درمیان رابطوں سے تربت کے صحافیوں کو پیشہ ورانہ سطح پر مزید مواقع حاصل ہوسکتے ہیں۔اس موقع پر نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماؤں واجہ ابوالحسن بلوچ، سابق سینیٹر کہدہ اکرم دشتی، ڈاکٹر محمد نور بلوچ، سید ملا برکت بلوچ، ڈپٹی میئر تربت نثار احمد بلوچ، جیزئی، صوبائی میڈیا سیکریٹری حفیظ علی بخش سمیت دیگر رہنما اور کارکنان بھی موجود تھے۔