دریائے سواں میں ڈوبنے والے شخص کی لاش تین روزہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے بعد برآمدڈیڈ باڈی کو ضروری کاروائی کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا

تلہ گنگ (ویب ڈیسک)دریائے سواں میں ڈوبنے والے شخص کی لاش تین روزہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے بعد برآمد۔ ڈیڈ باڈی کو ضروری کاروائی کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ نوجوان کی لاش گھر پہنچتے ہی کہرام مچ گیا۔۔اور لوگ افسوس کرنے امڈ آئے۔ تفصیلات کے مطابق ریسکیو کمانڈ اینڈ کنٹرول روم چکوال کو راولپنڈی کنٹرول روم سے کال موصول ہوئی کہ تحصیل چکوال کے علاقہ کِرلی گاں کے قریب دریائے سواں میں ایک شخص ڈوب گیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 چکوال کی جانب سے مرکزی اسٹیشن چکوال سے ریسکیو وہیکل جبکہ بلکسر سے ایمبولینس جائے حادثہ کی طرف روانہ کی گئی اور ریسکیو 1122 کی ایمرجنسی سروس نے فوری رسپانس کرتے ہوئے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق 40 سالہ محمد افضل گجر ولد اللہ بخش، ساکن فیصل آباد، بجلی کی تار لے کر لکڑی کے ذریعے دریائے سواں عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اچانک توازن برقرار نہ رکھ سکا اور دریا میں گر کر ڈوب گیا۔ ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر سکوبا سرچ میتھڈ کے ذریعے تلاش شروع کی۔ دریائے سواں میں پانی کا بہا تقریبا 70 سے 80 ہزار کیوسک، جبکہ دریا کی چوڑائی تقریبا 500 فٹ اور گہرائی تقریبا 35 فٹ بتائی گئی۔ تیز بہا کے باعث سرچ آپریشن میں شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ اندھیرا ہونے کی وجہ سے مزید سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن نہ کیا جا سکا، تاہم ریسکیو اہلکار موقع پر موجود رہے۔ اگلے روز پانی کی سطح میں رات کے دوران تقریبا چار سے پانچ فٹ اضافہ ہوا۔ ریسکیو ٹیموں نے سکوبا ڈائیونگ، بوٹ سرچ اور پیٹرولنگ سرچ کے ذریعے تلاش جاری رکھی۔ تقریبا 150 میٹر تک سکوبا سرچ جبکہ بوٹ سرچ کے ذریعے 4 سے 5 کلومیٹر اور مجموعی طور پر تقریبا 10 کلومیٹر کے علاقے میں سرچ آپریشن کیا گیا۔ صفدر اقبال، لیڈ فائر ریسکیو کی نگرانی میں 14 ریسکیوز نے آپریشن میں حصہ لیا، جن میں دو بوٹ آپریٹرز، دو سکوبا ڈائیورز، تین سوئمرز اور بیک اپ اسٹاف شامل تھا۔ بعد ازاں اندھیرا ہونے پر سرچ آپریشن روک دیا گیا۔ اگلے روز ریسکیو ٹیموں نے دوبارہ پیٹرولنگ اور بوٹ سرچ میتھڈ کے ذریعے تلاش کا عمل شروع کیا۔ رات کے دوران پانی کی سطح میں تقریبا دو فٹ اضافہ ہوا تاہم بعد میں پانی کی سطح معمول پر آ گئی۔ مسلسل سرچ آپریشن کے دوران ہرنالی سیداں کے مقام سے محمد افضل کی ڈیڈ باڈی ریکور کر لی گئی۔ ڈیڈ باڈی کو مزید قانونی و طبی کارروائی کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال راولپنڈی منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔ریسکیو 1122 چکوال کی ٹیموں نے تیز پانی کے بہا، دریا کی گہرائی اور مشکل حالات کے باوجود تین روز تک مسلسل سرچ آپریشن جاری رکھا۔ مبینہ طور پر بتایا گیا ہے کہ 40 سالہ نوجوان محمد افضل گجر ساکن فیصل آباد چکوال کے علاقے دندی گجراں میں الیکٹریشن کا کام کرتا تھا۔ وقوعہ روز بجلی کی تاریں ڈالنے میں مصروف تھا کہ دریائے سواں میں اچانک تیز پانی آنے کی وجہ سے پانی کی موجوں کی نذر ہوگیا اور جس کی لاش تین دن بعد ریسکیو 1122 کی انتہائی کوششوں کے بعد مل گئی۔ اہلیان علاقہ نے 1122 کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *