Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
کوئٹہ(ویب ڈیسک)جماعت اسلامی بلوچستان کے زیراہتمام امن کیلئے بدامنی، دہشت گردی، بارڈرزوسڑکوں کی بندش،پٹرولیم مصنوعات پربھتہ کے خلاف گورنر ہاؤس کے قریب احتجاجی دھرناشروع ہوگیا۔دھرنے میں جماعت اسلامی کے قائدین وورکرز سمیت علماء کرام، وکلاء ،مزدوروں،تاجروں،ٹرانسپورٹرز وصحافیوں اورعام شہریوں نے کثیرتعداد میں شرکت کی۔دھرنے سے صوبائی امیرایم پی ایمولاناہدایت الرحمان بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان جل رہاہے ان حالات میں بلوچستان کے بڑے بڑے سیاستدانوں سمیت اسٹبلشمنٹ کے چھتری تلے سردارونواب سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں سرکاری غیرسرکاری مظالم درندگی وزیادتیوں اورلوٹ مارکے خلاف صرف جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں پورے ملک میں احتجاج کررہے ہیں۔ہرظلم وجبرزیادتیوں کے خلاف ہرجگہ آوازبلندکرتے رہیں گے۔دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنماؤں مرتضی خان کاکڑ مولانا عبدالکبیرشاکر،ڈاکٹرشکیل روشان، امیرضلع قلعہ سیف اللہ نظیف اللہ کاکڑ،امیرضلع پشین ظہور احمد کاکڑ،صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری نورالدین غلزئی، قاری امداداللہ، امیرضلع مستونگ حافظ خالدالرحمان شاہوانی، امیرضلع نوشکی مولانامحمدقاسم مینگل،جمعیت طلبہ عربیہ بلوچستان کے منتظم حافظ صفی اللہ شاہوانی، ناظم اسلامی جمعیت طلبہ بلوچستان احسان اللہ ناصر،اقلیتی ونگ کے صدرسلمان گیل،الخدمت فاؤنڈیشن بلوچستان کے صدر عبدالمجید سربازی ودیگرنے بھی خطاب کیا صوبائی امیرمولاناہدایت الرحمان بلوچ نے مزیدکہاکہ ظلم وجبرلاقانونیت ولوٹ مارکی وجہ سے امیرامیرتراورغریب ترہورہاہے۔ایک رات میں 180روپے پٹرول قیمت بڑھانے والوں کوشرم نہیں آتی اب لٹیروں ظالموں کی وجہ سے لوگ خودسوزی وخودکشی پرمجبورہیں ایسے ظالم نظام بنانے والے اگرزندہ ہے بھی اوراگرمرے ہوئے ہیں توابھی ان پرلعنت ہو۔آج بلوچستان مررہاہے جل رہاہے روزانہ لوگ مررہے ہیں بچے یتیم ہورہے ہیں بیوروکریسی لوٹ مارمیں مصروف ہیں بلوچستان میں آج خاموش ہیں بڑے لوگ بھی خاموش ہیں مذہب پرست وپیٹ پرست خاموش ہیں تباہی وبربادی جاری مائیں بہنیب محفوظ نہیں نوجوان قیدمیں بندہیں جماعت اسلامی خاموش نہیں رہے گی۔پارلیمنٹ میڈیاسیاست عدلیہ کابینہ سیاسی جماعتیں سب قیدمیں وغلام ہیں۔سفرروزگاروبات اورکاروبارکی آزادی نہیں۔حق وسچ کی بات کریں گے تومقدمات بنیگی۔بلوچستان میں بیغیرتی کی زندگی گزارنے والوں کوآزادی ہیں۔جس جماعت اسلامی کواسٹبلشمنٹ کی بی ٹیم کہنے والے جماعت اسلامی کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کرنے والے آج سب خاموش ہیں۔آج بلوچستان کے مسائل مشکلات پرصرف جماعت اسلامی جدوجہد کررہی ہے احتجاج کررہی ہے بلوچ پشتون ومذہب کارڈاستعمال کرنے والے عوام کوبھول گیے۔ظالم سرداروں نے قاتلوں کوپناہ دیے ہیں۔بلوچستان کے جنگ کوقوموں کے درمیان نفرت کے طورپراستعمال کرنے والوں کومیں کارکن کی حیثیت سے بتارہاہوں کہ یہ جنگ بلوچ پشتون پنجابی کی نہیں صرف ظالم اورمظلوم کی جنگ ہے۔ظالم بلوچوں پشتونوں اورپنجابیوں میں موجودہیں ظالم بلوچ پشتون وپنجابی کے پردے میں نہیں چھپ سکتے۔بلوچستان میں ظالم ومظلوم کی لڑائی کوقوموں کی لڑائی نہیں بننے دیں گے۔ہم نوجوانوں کوپرامن جمہوری جدوجہد کی دعوت دیتاہوں مجھے کئی بارپہاڑوں کی طرف جانے کی دعوت دے دی گئی مجھے معلوم تھاکہ میں پہاڑوں کی طرف گیاتومقابلے میں ماردیاجاؤنگا پہاڑوں پرجانے والوں کونہ حقوق ملتے ہیں نہ انصاف۔بچوں اورنوجوانوں سے گزارش ہے کہ جمہوری جدوجہد کی طرف آو۔اصل دہشت گرداسمبلی بیوروکریسی میں موجودہیں۔آج لوگ اس ظالم نظام سے مایوس ہیں حافظ نعیم الرحمن نے اس ظالم نظام سے بغاوت کیاہے ہم جرنیلوں ججوں وچوربیوروکریسی کے نظام سے بغاوت کرتے ہیں۔اس ظالم نظام نے ہمارے بہنوں سے شوہربچوں سے والدچھین لیاہے۔ہم ججزوجرنیلوں کے اس ظالم نظام پرہزاربارلعنت بھیجتے ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے بدل دونظام تحریک شروع کیاہے یہی مسائل کااصل حل ہیں