Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
سرینگر(کشمیر ڈیسک)بھارت کے غیر قانونی قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے شمالی ضلع بانڈی پورہ میں تعلیمی نظام کی ایک ایسی زبوں حالی سامنے آئی ہے جس نے علاقے میں تعمیر وترقی اور جدید تعلیمی اصلاھات کے بلند بانگ بھارتی دعوؤں کا پول کھول دیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ضلع کے ایک دور افتادہ گاؤں میں قائم سرکاری سکول میں اس وقت 70سے زائد بچے تعلیم پا رہے ہیں، سکول میں دو اساتذہ تعینات ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جس عمارت کی پہلی منزل پر یہ بچے اپنا تعلیمی سفر طے کر رہے ہیں، اسکی گراؤنڈ فلور پر ایک گوشالہ ”مویشیوں کا باڑہ“موجود ہ ہے۔ یہ سکول گزشتہ پچاس برس سے اس عمارت میں قائم ہے۔ سکول میں زیر تعلیم بچوں کا کہنا ہے کہ نیچے موجود مویشی خانے سے اٹھنے والے تعفن کی وجہ سے انکا کلاس روم میں بیٹھنا اور پڑھائی پر توجہ مرکوز کرنا ناممکن ہوچکا ہے۔ یکم سے پانچوین جماعت کے تمام بچوں کے لیے صرف ایک کمرہ ہے اور جب ایک استادایک مضمون کا سبق پڑھا رہا ہوتا ہے تو بالکل ساتھ بیٹھا دوسرا استاد اس کمرے میں کسی اور کلاس کے بچوں کو دوسرا مضمون پڑھانے پر مجبور ہوتا ہے۔ اس افرا تفری، شدید شور اور مسلسل خلل کے باعث بچے نہ سبق سمجھ پاتے ہیں اور نہ لکھنے کا کام اچھے طریقے سے کرسکتے ہیں۔ چوتھی جماعت کی ایک طالبہ مہوش نے اپنے دکھ کااظہارکرتے ہوئے بتایا کہ عمارت بالکل غیر محفوظ ہے اور تعفن کی وجہ سے بچوں کو سر درد، متلی اور صحت کے دیگر مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ بانڈی پوری کے مقامی سماجی کارکنوں اور علاقے کے معززین نے بھی نے سکول کی حالت زار پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، سماجی کارکن عاشق حسین نے کہا کہ گزشتہ پانچ دہائیوں میں کئی حکومتیں آئیں اورگئیں لیکن اس سکول کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی۔