Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
اسلام آباد (ویب ڈیسک)پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی بڑھتی شرح سنگین بحران کی شکل اختیار کرنے لگی۔ دستیاب معلومات کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریبا 3 لاکھ افراد ذیابیطس کی پیچیدگیوں کے باعث اپنے پاﺅں سے محروم ہو جاتے ہیں، یعنی اوسطا ہر گھنٹے 34 افراد اپنا پاں گنوا رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق پاں یا ٹانگ گنوانے والے ذیابیطس کے 50 فیصد مریض 3 سال جبکہ 70 فیصد 5 سال کے اندر انتقال کر جاتے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریض پیچیدگیوں کے باعث پاں کے السر اور دل کی بیماریوں کا بھی شکار ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں 20 سے 80 سال کی عمر کے افراد میں ذیابیطس کی شرح 31.4 فیصد ہے جبکہ متاثرہ مریضوں میں تقریبا 18 فیصد ڈائبیٹک فٹ السر کا شکار ہیں۔ذیابیطس ایک ایسا مرض ہے جس میں جسم مناسب مقدار میں انسولین پیدا نہیں کرتا یا انسولین مثر طریقے سے کام نہیں کرتی، جس کے باعث خون میں شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق انسولین کی کمی کے علاوہ موٹاپا، جینیاتی عوامل اور ذہنی دبا سمیت دیگر عوامل بھی ذیابیطس کے خطرے میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔بیماری کی پیچیدگیوں کے نتیجے میں دل کے دورے، فالج، نابینا پن، گردوں کے ناکارہ ہونے اور پاں یا ٹانگ کٹنے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ذیابیطس پر قابو پانے کے لیے متوازن غذا اور جسمانی ورزش انتہائی اہم ہیں۔ ہفتے میں کم از کم ڈھائی گھنٹے تیز چہل قدمی یا سیڑھیاں چڑھنے جیسی جسمانی سرگرمیاں مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔ماہرین نے کہا ہے کہ زیادہ تر افراد میں ذیابیطس کی تشخیص اچانک ہوتی ہے، تاہم بروقت تشخیص اور مناسب علاج نہ ہونے کی صورت میں جسم کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ذیابیطس کا فی الحال مکمل علاج موجود نہیں، تاہم بروقت تشخیص، مناسب علاج اور احتیاطی تدابیر اختیار کرکے بیماری کی پیچیدگیوں سے بچا جاسکتا ہے۔