کان کنی سے متعلق دھماکہ خیز مواد پر سے پابندی ختم کی جائے، افسر محمد خان

پشاور(ویب ڈیسک) حکومت خیبر پختون خوا منرلز ایکٹ 2017 میں تمام سٹیک ہولڈرز کو لے کر ترامیم کرے اور ایکسپلوزیو پالیسی کو مائننگ کے شعبے سے وابستہ لیز ہولڈر کو ان بورڈ لے کر دوبارہ ایس او پیز بنا کر لیز ہولڈرز کا معاشی قتل عام بند کرے اور باجوڑ اور دیگر علاقوں میں بارود کے بغیر کی منرلز لوڈنگ پر سے پابندی فوری طور پر ختم کی جائے اور لیز ہولڈروں کا معاشی قتل عام فوری طور پر بند کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار منرلز ریسورس ایسوسی ایشن خیبر پختون خواہ کے صدر افسر محمد خان ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری سید عبدالرف شاہ اور خیبر پختون خواہ کے مختلف علاقوں کے کان کنی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے لیز ہولڈروں کے ہمراہ پشاور پریس کلب میں پیر کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ افسر محمد خان نے کہا کہ ہم وضاحت کرتے ہیں کہ کان کنی معدنیات کی ترقی کا محکمہ ہے مالیات میں اضافہ کرنے والا محکمہ نہیں ہے انہوں نے کہا کہ معدنیات ایکٹ 2017 میں فوری طور پر ایک با اختیار کمیٹی کے ذریعے ترمیم کی جائے جس میں لیز ہولڈرز کونکنی کے مزدوروں اور دیگر حقیقی سٹیک ہولڈرز کی نمائندگی شامل ہو انہوں نے مطالبہ کیا کہ میفا کو منحدم کر دیا جائے گا کیونکہ میفا کے تمام ممبران نہ تو اسٹیک ہولڈرز ہیں اور نہ ہی ان کا کنی کے شعبے سے کوئی تعلق ہے۔ افسر محمد خان نے کہا کہ خیبر پختون خواہ میں صوبائی حکومت معدنیات کی ترقی کا بینک قائم کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ بینک کی رائلٹی کو کان کنی کے شعبے اور کان کنی کی کمیونٹی کی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے گا افسر محمد خان نے کہا کہ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ کان کنی سے متعلق دھماکہ خیز مواد پر سے پابندی کو فوری طور پر ہٹایا جائے اور کان کنی کی سرگرمیوں اور روزگار کو روکے بغیر قابل عمل نئے ایس او پیز متعارف کرائے جائیں انہوں نے خیبر پختون خواہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ پہلے سے کھودے گئے معدنیات کی لوڈنگ اور نقل و حمل کی اجازت دی جائے کیونکہ ان کا دھماکہ خیز مواد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ افسر محمد خان نے کہا کہ مناسب ماحولیاتی اور حفاظتی شرائط کے تحت جنگلات اور محفوظ علاقوں میں باقاعدہ ریگولیٹڈ کانکنے کی اجازت دی جائے کیونکہ میفا ان گزارہ فارسٹ میں کانکنی پر پابندی عائد کر رکھی ہے جبکہ منرلز ایکٹ 2017 وہاں کان کنی کی اجازت دیتا ہے میفا نے قانون کے منافی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے گزارہ فارس میں تمام قسم کی کانکنی پر پابندی لگائی ہوئی ہے اس پابندی کو فوری طور پر ختم کیا جائے افسر محمد خان نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بڑے پیمانے پر کان کنی کا عمل بالکل ایسٹ انڈیا کی طرح ہے جو پیسے کی طاقت سے وسائل پر قبضہ کر رہے ہیں اس کے نتیجے میں دیر چترال اور مالاکنڈ کے علاقوں پر قبضہ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مزدوروں کی ترقی و بہبود کے لیے ایک بینک قائم کیے جائیں اور مقامی مزدوروں کے گروہوں کو بلا سود مالی معاونت مشینری اور کان کنی کے چھوٹے رقبے فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سرمایہ کاری اور ویلیو ایڈیشن مصنوعات (مصنوعات میں اضافہ قدر پیدا کرنے کے عمل) کفر روک دیا جائے تاکہ معدنیات کی پروسیسنگ خیبر پختون خواہ میں ہی ہو اور صوبے کے لیے روزگار اور زیادہ سے زیادہ معاشی فوائد پیدا ہوں انہوں نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق مقامی مزدوروں کو پلیسر گولڈ کی کان کنی کے لیے چھوٹے رقبے بھی مختص کیے جائیں۔ افسر محمد خان نے مزید مزید کہا کہ کون کنی سے وابستہ برادری ضوابط حفاظت اور ماحولیاتی تحفظ کے خلاف کوئی اقدامات کے حامی نہیں ہیں ہم ایسے منصفانہ شفاف اور قابل عمل نظام کا مطالبہ کرتے ہیں جو خیبر پختون خواہ کے معدنی وسائل کی ترقی کے ساتھ ساتھ لوگوں کے روزگار کو بھی تحفظ فراہم کریں انہوں نے حکومت خیبر پختون خواہ سے مطالبہ کیا کہ وہ منرلز ایسوسی ایشن اور کان کنی کے مزدوروں کے نمائندوں کے ساتھ فوری طور پر بامقصد مذاکرات کریں اور ان مسائل کو مزید تاخیر کیے بغیر حل کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *