صوبے کے تمام اضلاع، بالخصوص ضلع ہرنائی، ضلع زیارت کے اکثر علاقے اور شاہراہیں ریاستی سرپرستی میں سرگرم مسلح جتھوں اور دہشت گردوں کے قبضے میں ہیں

کوئٹہ (ویب ڈیسک) عوامی نیشنل پارٹی، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے مشترکہ بیان میں ضلع ہرنائی کے شاہرگ میں ایک بار پھر دہشت گردی کے واقعے، عبدالخالق ترین کی شہادت، عیسیٰ گل کے زخمی ہونے اور چار افراد کے اغوا کی شدید مذمت کرتے ہوئے ریاست، حکومت اور اس کے اداروں کو اس واقعے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دنوں دن دیہاڑے شاہرگ کے کلی خدرانی سے متصل چراگاہ میں دہشت گردوں نے حملہ کرکے مقامی افراد کو شہید و زخمی کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں اغوا بھی کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے کے تمام اضلاع، بالخصوص ضلع ہرنائی، ضلع زیارت کے اکثر علاقے اور شاہراہیں ریاستی سرپرستی میں سرگرم مسلح جتھوں اور دہشت گردوں کے قبضے میں ہیں۔ 19 مئی کو ملک شینگل ترین کے اغوا اور شہادت، 26 مئی کو کلی چونگی شاہرگ میں دہشت گردی کے واقعے میں 5 سیاسی رہنماؤں و کارکنوں کی شہادت، 5 جولائی کو سانحہ ہنہ اوڑک میں 6 افراد کی شہادت و اغوا، 6 جولائی کو ضلع زیارت میں دہشت گردی کے خونی سانحے میں 32 لیویز اہلکاروں کی شہادت، ضلع ہرنائی کے نوجوانوں عمران بابر، بلال خان اور زکاہ اللہ ترین کو اغوا کرکے ان کی تشدد زدہ لاشیں پھینکنے، اور شاہرگ کے کلی پیڑی سے مقامی عوام کو نقل مکانی پر مجبور کرکے ان کے گھروں میں مسلح جتھوں کو بسانے کے واقعات کے بعد گزشتہ دنوں شاہرگ کے کلی خدرانی میں دہشت گردی کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست اور اس کے اداروں نے ضلع ہرنائی، ضلع زیارت اور پورے صوبے کے عوام کو دہشت گردوں کے حوالے کردیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت عوام کی جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری پوری کرنے کے بجائے اس پشتون دشمن پالیسی میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہے اور زیارت دھرنا کمیٹی کے ساتھ مسلح جتھوں کا صفایا کرنے کی ذمہ داری پوری کرنے کا تحریری معاہدہ کرنے کے باوجود اس پر عمل درآمد سے گریزاں ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلع ہرنائی اور ضلع زیارت کی تمام شاہراہوں، پہاڑوں، شہروں اور دیہات پر حکومتی فورس ایف سی کا کنٹرول ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات بھی تواتر سے ہو رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے کی پشتون، بلوچ اقوام و عوام اور تمام باشعور حلقے اس حقیقت پر متفق ہیں کہ صوبے میں جاری دہشت گردی، قتل و غارت گری، اغوا کاری، لاقانونیت، بھتہ خوری اور مسلح جتھوں کا راج، ڈالروں کی جنگ کی ٹھیکے داری اور پشتون، بلوچ اقوام کو حقوق و اختیارات کے قومی مطالبات سے دستبردار کرکے تمام آبی و معدنی وسائل پر مکمل قبضہ گیری کی ریاستی پالیسی کے تحت رونما ہو رہے ہیں۔ لہٰذا اس عوام دشمن ریاستی پالیسی کی تبدیلی سے ہی امن کا قیام اور دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے، جس کے لیے تمام جمہوری سیاسی جماعتوں اور صوبے کے عوام کو مشترکہ طور پر فیصلہ کن سیاسی، جمہوری اور مزاحمتی تحریک شروع کرنا ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *