Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

کوئٹہ (ویب ڈیسک)بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی مذمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ سرفراز بگٹی بوکھلاہٹ میں مستونگ اور کھڈکوچہ کے باغات کے خاتمے کی دھمکیاں دینے سے باز رہیں، بلوچ عوام اپنے معاشی حقوق پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کریں گے،بی این پی بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ فارم 47 کے وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی اپنی مسلسل ناکامیوں، نااہلی اور گزشتہ ڈھائی سالہ بدترین طرزِ حکمرانی کے باعث مکمل طور پر بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔ بلوچستان کے بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکامی کے بعد اب وہ مستونگ اور کھڈکوچہ کے ان تاریخی اور عوامی باغات کے خاتمے کی دھمکیاں دینے پر اتر آئے ہیں، جنہیں بلوچ عوام نے کئی دہائیوں کی مسلسل محنت، خون پسینے اور اپنی جمع پونجی سے آباد کیا ہے مرکزی بیان میں کہا گیا کہ مستونگ اور کھڈکوچہ کے باغات محض درختوں کا مجموعہ نہیں بلکہ وہاں کے عوام کی نسلوں کی محنت، معاشی بقا، روزگار اور مستقبل سے وابستہ ہیں۔ ایسے خاندان موجود ہیں جنہوں نے چالیس، پچاس سال سے ان باغات کو اپنی اولاد کی طرح پالا، ان کی حفاظت کی اور اپنی زندگی بھر کی کمائی لاکھوں، کروڑوں بلکہ اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی صورت میں ان باغات کی آبادکاری پر صرف کی کسی حکمران کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایک آمرانہ اور دھمکی آمیز بیان کے ذریعے ان لوگوں کی محنت اور معاشی حقوق کو روندنے کی کوشش کرے۔بی این پی نے کہا کہ سرفراز بگٹی کی جانب سے باغات ختم کرنے کی دھمکی انتہائی قابلِ مذمت، اشتعال انگیز اور عوام کے بنیادی حقوق کے منافی ہے۔ اگر حکومت کو کسی معاملے پر قانونی یا انتظامی تحفظات ہیں تو انہیں آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حل کیا جائے نہ کہ عوام کو دھمکیاں دے کر ان کی نسلوں کی محنت پر قبضہ یا اسے تباہ کرنے کی کوشش کی جائے مرکزی بیان میں مزید کہا گیا کہ بلوچ عوام ایسے کسی بھی عمل کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے جو ان کے روزگار، زمین، باغات اور معاشی حقوق کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا جائے۔ سرفراز بگٹی کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ بلوچستان کے عوام اپنے حقوق سے دستبردار ہونے والے نہیں اور نہ ہی دھمکیوں سے انہیں خاموش کرایا جا سکتا ہے۔بی این پی نے کہا کہ سرفراز بگٹی کا طرزِ عمل جمہوری حکومت کے بجائے دھمکی، دباؤ اور طاقت کے استعمال کی سیاست کی عکاسی کرتا ہے۔ جب ایک حکمران عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے عوام کی نسلوں کی محنت سے آباد اثاثوں کو ختم کرنے کی دھمکیاں دینے لگے تو یہ محض سیاسی ناکامی نہیں بلکہ انتہائی خطرناک طرزِ حکمرانی کی علامت ہے پارٹی نے خبردار کیا کہ مستونگ، کھڈکوچہ اور بلوچستان کے کسی بھی علاقے کے عوام کے معاشی حقوق پر حملہ ناقابلِ قبول ہوگا۔ بلوچستان نیشنل پارٹی عوام کے ساتھ کھڈکوچہ ہے اور باغات سمیت عوام کے تمام جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، جمہوری اور سیاسی فورم پر بھرپور آواز بلند کرے گی سرفراز بگٹی دھمکیوں اور طاقت کی زبان ترک کریں؛ بلوچستان کے عوام کو دھمکانے کے بجائے اپنی حکومت کی ناکامیوں کا جواب دیں۔ بلوچ عوام اپنی سرزمین، اپنی محنت اور اپنے معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے کسی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔