شزہ فاطمہ کی گور نر سندھ سے ملاقات، مختلف امورپر تبادلہ خیالاین ای ڈی کے ایس ای آر سی میں شامل ہونے کے ساتھ ہی پاکستان کا قومی سیمی کنڈکٹر کلسٹر فریم ورک مکمل ہو گیا

کراچی(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے گورنر ہاؤس کراچی میں گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی سے ملاقات کی۔ گورنر سندھ کے ہمراہ وفاقی وزیر نے فن ٹیک راؤنڈ ٹیبل 2026 میں بھی شرکت کی، جہاں انہوں نے ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کو فروغ دینے اور پاکستان کے فن ٹیک ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے کے حوالے سے صنعت کے سرکردہ رہنماؤں سے تبادلہ خیال کیا اور اہم پالیسی امور و شعبہ جاتی ترقی کی ترجیحات پر گفتگو کی۔وفاقی وزیر شذہ فاطمہ خواجہ نے پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ اور این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ اس معاہدے کے تحت سیمی کنڈکٹر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کلسٹر کے تحت این ای ڈی کو جنوبی خطے کے لیے لیڈ یونیورسٹی کے طور پر باضابطہ طور پر مقرر کر دیا گیا ہے — جبکہ نسٹ شمالی خطے اور ای ایس یو پاک-یو ای ٹی لاہور مرکزی خطے کے لیے پہلے سے مقرر ہیں۔ اس معاہدے پر دستخط کے ساتھ ہی نیشنل سیمی کنڈکٹر ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ پروگرام /انسپائر کے تحت تمام ایس ای آر سی ادارہ جاتی معاہدے مکمل ہو گئے ہیں، جس سے پروگرام کے پہلے ہی سال میں پاکستان کے تینوں علاقائی سیمی کنڈکٹر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کلسٹرز باضابطہ طور پر قائم ہو گئے ہیں۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ اس معاہدے پر دستخط عالمی سطح پر مسابقتی سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم کی تعمیر کی جانب پاکستان کے سفر میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ ایس ای آر سی انٹیک کے تحت تینوں خطوں میں پاکستان بھر سے 270 طلباء کو تربیت دی جا رہی ہے، جو 2030ء تک 7200 سے زائد سیمی کنڈکٹر پیشہ ور افراد تیار کرنے کے وسیع تر قومی ہدف کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ انسپائر پروگرام کے تحت ہم صرف طلباء کو تربیت ہی نہیں دے رہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیمی کنڈکٹر ویلیو چین میں ایک مضبوط اور مسابقتی کھلاڑی بنانے کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔اپنے خطاب میں گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ معاہدہ علم پر مبنی معیشت کے قیام کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ شراکت داری عالمی سیمی کنڈکٹر صنعت کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے نوجوانوں کو تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔تمام تینوں ایس ای آر سی کلسٹرز کے باضابطہ قیام کے ساتھ ہی انسپائر اب مکمل پیمانے پر عملدرآمد کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جو ملک کے ڈیجیٹل اور معاشی مستقبل کو سنوارنے کے لیے پاکستانی سیمی کنڈکٹر ٹیلنٹ کی ایک نئی نسل کی تیاری کا راستہ ہموار کر رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *