بلوچستان پبلک سروس کمیشن ایک خودمختار ادارہ ہے,بلوچستان بار کونسل کے رکن راحب خان بلیدی ایڈووکیٹ

کوئٹہ (ویب ڈیسک) بلوچستان بار کونسل کے رکن راحب خان بلیدی ایڈووکیٹ نے اپنے ایک بیان میں بلوچستان پبلک سروس کمیشن کی جانب سے تحصیلدار کی آسامیوں کے انٹرویوز کے اچانک التوا کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن ایک خودمختار ادارہ ہے، مگر اس میں مسلسل سیاسی مداخلت کے باعث شفافیت اور میرٹ پر مبنی تقرریوں کا عمل شدید خدشات اور سوالات کی زد میں آ گیا ہے۔تحصیلدار کی آسامیوں کے لیے 2022ء  میں اشتہار شائع کیا گیا تھا، جبکہ ان کے تحریری امتحانات کا انعقاد 2024ء  میں ہوا۔ چار سال کی طویل تاخیر کے بعد اگست 2026ء  میں انٹرویوز کا سلسلہ شروع ہی ہوا تھا کہ انہیں اچانک ملتوی کر دیا گیا۔ چار سال تک امیدواروں کو ایک ہی آسامی کے لیے لٹکائے رکھنا ان کے مستقبل کے ساتھ سراسر کھلواڑ ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان اس وقت بے روزگاری کے شدید بحران سے گزر رہا ہے۔ سرکاری اداروں میں کرپشن، اقربا پروری اور غیر قانونی تعیناتیاں عروج پر ہیں، جس کی وجہ سے پبلک سروس کمیشن بے روزگار نوجوانوں کے لیے امید کی آخری کرن سمجھا جاتا ہے۔ اس ادارے میں سیاسی مداخلت سے ہزاروں باصلاحیت نوجوانوں میں شدید مایوسی پھیل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ  سیکرٹری محکمہ صحت کی جانب سے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو دوسرے صوبوں کے لوکل/ڈومیسائل کے حامل افراد کو بلوچستان کے محکمہ صحت میں بھرتی کرنے سے متعلق مراسلہ بھیجنا، مقامی نوجوانوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہے۔ بلوچستان میں پہلے ہی سیکنڑوں بے روزگار ڈاکٹرز، میڈیکل ٹیکنیشنز اور ڈپلومہ ہولڈرز موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد تمام صوبے اپنی جامعات میں صرف مقامی ڈومیسائل کے حامل افراد کو ہی ملازمتیں دیتے ہیں، جبکہ بلوچستان کی مختلف جامعات میں سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے ڈومیسائل پر بالواسطہ بھرتیوں کا سلسلہ جاری ہے جو کہ ناانصافی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تحصیلدار کی آسامیوں کے ملتوی شدہ انٹرویوز کا فوری دوبارہ آغاز کیا جائے اور بلوچستان کے بے روزگار نوجوانوں کے لیے میرٹ پر شفاف تقرریوں کو یقینی بنایا جائے۔بلوچستان پبلک سروس کمیشن میں ہر قسم کی سیاسی مداخلت کو فوری طور پر روکا جائے۔ محکمہ صحت اور بلوچستان کی تمام جامعات (ہائیر ایجوکیشن) میں دوسرے صوبوں کے ڈومیسائل پر کی جانے والی تمام غیر قانونی تقرریوں کے عمل پر سدباب کیا جائے اور صوبے کے حقدار نوجوانوں کو ان کا جائز حق دیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *