برمل میں چلغوزے کی کٹائی پر مبینہ پابندی، سینکڑوں خاندانوں کا روزگار خطرے میں پڑ گیا

وانا (ویب ڈیسک)جنوبی وزیرستان کی تحصیل برمل کے علاقے سرکنڈے میں مقامی لوگوں نے دعوی کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کے ایک بریگیڈیئر کی جانب سے چلغوزے کی کٹائی اور جمع آوری پر 5ستمبر تک مبینہ پابندی عائد کی گئی ہے، جس کے باعث سینکڑوں مقامی خاندانوں کو اپنی سالانہ فصل ضائع ہونے اور بڑے معاشی نقصان کا خدشہ ہے۔مقامی افراد کے مطابق چلغوزہ محض جنگلاتی پیداوار نہیں بلکہ جنوبی وزیرستان کے ہزاروں خاندانوں کے لیے موسمی روزگار اور آمدن کا اہم ذریعہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت چلغوزہ درختوں سے نہ اتارا گیا تو فصل کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ مزدوروں، کاشتکاروں، مقامی تاجروں اور دیگر وابستہ افراد کی آمدن بھی شدید متاثر ہوسکتی ہے۔دستیاب مطالعات کے مطابق جنوبی وزیرستان ملک کے اہم چلغوزہ پیدا کرنے والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ یہاں چلغوزے کے جنگلات شکئی سے انگور اڈہ تک پھیلے ہوئے ہیں۔ وانا سمیت مختلف مقامی مارکیٹیں اس تجارت کا اہم حصہ ہیں اور چلغوزہ ملک کے دیگر بڑے شہروں تک پہنچایا جاتا ہے۔رپورٹس کے مطابق چلغوزے کی کٹائی کا موسم عموما اگست کے وسط سے ستمبر کے آخر تک رہتا ہے، اس لیے موجودہ مرحلے پر کٹائی میں تاخیر مقامی لوگوں کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔چلغوزے کی تجارت جنوبی وزیرستان کی معیشت میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ 2025 کی ایک رپورٹ میں ضلعی حکام کے حوالے سے اس شعبے سے تقریبا 14 ارب روپے سالانہ آمدن کا ذکر کیا گیا تھا، جبکہ اسی سال شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ہزاروں خاندان چلغوزے کی معیشت سے وابستہ ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف علاقے میں روزگار کے مواقع پہلے ہی محدود ہیں، دوسری جانب اگر چلغوزے جیسی اہم موسمی آمدن کے حصول میں بھی رکاوٹیں پیدا کی گئیں تو غریب خاندانوں کے لیے مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔علاقہ مکینوں نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ برمل کے سرکنڈے میں چلغوزے کی کٹائی پر مبینہ پابندی کے معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، پابندی کی وجوہات واضح کی جائیں اور اگر کوئی قانونی یا سیکیورٹی رکاوٹ موجود نہیں تو مقامی لوگوں کو فوری طور پر اپنی فصل جمع کرنے کی اجازت دی جائے۔مقامی افراد نے واضح کیا کہ وہ جنگلات کے تحفظ اور قانونی ضوابط کی پابندی کے لیے تیار ہیں، تاہم انہیں اپنے جائز معاشی اور موسمی روزگار سے محروم نہ کیا جائے۔ تاہم مقامی لوگوں کی جانب سے پابندی اور بریگیڈیئر کے حکم کا دعوی تاحال آزادانہ طور پر سرکاری طور پر تصدیق شدہ نہیں، اس لیے خبر میں اسے اسی نسبت سے بیان کیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *