کوئٹہ میں انتظامیہ کی ناک کے نیچے قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے،مولانا عبدالرحمن رفیق

کوئٹہ(ویب ڈیسک)جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس اور دیگر رہنماؤں نے امراء و نظماء کے نمائندہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئٹہ میں انتظامیہ کی ناک کے نیچے قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے، دن دہاڑے شہریوں کو قتل کیا جارہا ہے اور قاتل واردات کے بعد باآسانی فرار ہوجاتے ہیں، جبکہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے معروف تاجر صلاح الدین نورزئی کی ٹارگٹ کلنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دن دہاڑے شہریوں کو فائرنگ کرکے قتل کردینا اور قاتلوں کا فرار ہوجانا کوئٹہ میں امن و امان کی انتہائی ابتر صورتحال کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، مگر آج کوئٹہ کا تاجر، مزدور، عام شہری اور معصوم بچے تک خود کو محفوظ تصور نہیں کرتے۔ رہنماؤں نے کہا کہ سیف سٹی کے نام پر اربوں روپے کے کیمرے نصب کیے گئے، شہر میں جگہ جگہ چیک پوسٹیں اور ناکے قائم ہیں، اس کے باوجود ٹارگٹ کلنگ اور سنگین جرائم کا سلسلہ جاری ہے۔ اگر قاتل دن دہاڑے شہریوں کو نشانہ بنا کر فرار ہوجائیں تو سیف سٹی کے نام پر اربوں روپے کے کیمرے کس مرض کی دوا ہیں؟ صرف کیمرے نصب کردینے سے شہر محفوظ نہیں ہوتے انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر جرائم پیشہ عناصر، قاتلوں، منشیات فروشوں، چوروں اور رہزنوں کا مرکز بنتا جارہا ہے۔ جگہ جگہ ناکہ بندی اور چیک پوسٹوں کے باوجود جرائم کا تسلسل انتظامی نظام کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے۔ حکومت کو یہ طے کرنا ہوگا کہ شہریوں کے تحفظ اور امن و امان کی ذمہ داری کس کی ہے، کیونکہ موجودہ صورتحال میں عوام مسلسل خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ رہنماؤں نے کوئٹہ شہر میں بڑھتی ہوئی فحاشی، عریانی، منشیات فروشی اور منشیات نوشی پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شام ڈھلتے ہی شہر کے چوک چوراہے اور اہم شاہراہیں ان سماجی برائیوں کی آماجگاہ بن جاتے ہیں۔ حکومت اور انتظامیہ کی موجودگی میں منشیات فروشی اور منشیات نوشی سمیت فحاشی پھیلانے والے عناصر کا سرعام سرگرم رہنا انتظامیہ کی چشم پوشی اور غفلت کی واضح علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ نے بارہا ان ناسوروں کی نشاندہی کی، انتظامیہ کو متوجہ کیا اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا، مگر صورتحال جوں کی توں ہے۔ انتظامیہ اگر اب بھی خاموش تماشائی بنی رہی تو اس سے عوام میں پائی جانے والی بے چینی اور اضطراب مزید بڑھے گا۔رہنماؤں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کوئٹہ کے شہریوں کو قاتلوں، رہزنوں اور منشیات فروشوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ حکومت اور انتظامیہ فوری طور پر امن و امان کی صورتحال پر قابو پائے، ٹارگٹ کلنگ میں ملوث عناصر کو گرفتار کرے، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے اور شہر میں پھیلنے والی منشیات و دیگر سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرے۔انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ اس سنگین صورتحال پر خاموش نہیں رہے گی۔ آئندہ اجلاس میں امن و امان، ٹارگٹ کلنگ، منشیات فروشی اور شہر میں بڑھتی ہوئی دیگر سماجی برائیوں کے خلاف سخت اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر انتظامیہ نے ان جرائم پیشہ عناصر کو لگام نہ دی اور شہریوں کو تحفظ فراہم نہ کیا تو جمعیت علماء  اسلام بھرپور عوامی احتجاج سے دریغ نہیں کرے گی۔ اجلاس میں جمعیت علماء  اسلام ضلع کوئٹہ کی تمام تحصیلوں اور یونٹوں کے امراء  و نظماء نے شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *