Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
جموں (کشمیر ڈیسک)غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں این آئی اے کی ایک خصوصی عدالت نے کشمیری خاتون انشا جان عرف انشا طارق کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے جو 2019 کے پلوامہ حملے کے بعد درج کیے گئے ایک جھوٹے مقدمے میں چھ سال سے زائد عرصے سے نظربند ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق خصوصی جج پریم ساگر نے 20 اگست کو جاری کیے گئے حکم میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون (UAPA) کا حوالہ دیا جس کے تحت ضمانت کی منظوری پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ضلع پلوامہ کے علاقے ہرکی پورہ کی رہائشی انشا جان کو 3 مارچ 2020 کو ان کے والد کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ چھ سال سے زائد عرصے سے نظربند ہیں اور ان کے خلاف یو اے پی اے، آرمز ایکٹ، ایکسپلوسیو سبسٹینسز ایکٹ اور دیگر قوانین کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان پر دسمبر 2022 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔استغاثہ نے ان پر فروری 2019 کے پلوامہ حملے کے مبینہ ملزمان کو کھانا اور پناہ فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ وکیل دفاع نے ان کی رہائی کی درخواست میں طویل قید، مقدمے کی کارروائی میں تاخیر اور صحت کے مسائل، جن میں جلد کی دائمی بیماری اور گردن کے مہرے کی تکلیف شامل ہیں، کا حوالہ دیا۔تاہم این آئی اے نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے انہیں دہشت گردی کی معاون قرار دیا۔ عدالت نے ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رہائی سے گواہوں پر اثرانداز ہونے کا امکان ہے اور ان کی طبی حالت جان لیوا نہیں ہے۔ عدالت نے جیل حکام کو ہدایت کی کہ انہیں ضروری طبی سہولت فراہم کیا جائے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے ایسے قوانین کے غلط استعمال پر بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے، جن کے تحت الزامات کا سامنا کرنے والے کشمیری حتمی عدالتی فیصلے تک پہنچنے سے پہلے ہی کئی سال تک قید رہ سکتے ہیں۔ چھ سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود انشا جان کے مقدمے میں کوئی حتمی فیصلہ نہ آنا، قانونی عمل کے حق سے محرومی اور کشمیریوں کے خلاف جبری قوانین کے بڑھتے ہوئے استعمال سے متعلق خدشات کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیا پال ملک نے سرِعام کہا تھا کہ سکیورٹی میں خامیاں حملے کی وجہ بنیں۔ انہوں نے کہاتھا کہ مودی حکومت نے حملے سے قبل موصول ہونے والی وارننگز پر کارروائی نہیں کی۔ ان کے بیانات کے بعد حملے کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کیمطالبے نے مزید زور پکڑ لیا۔ اس اقدام سے ایک بار پھریہ بات اجاگر ہوئی کہ کالے قوانین کو کشمیریوں کی طویل عرصے تک نظربندی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔