Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

کراچی (ویب ڈیسک) صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات، بالخصوص ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں کو حقیقت پسندانہ بنیادوں پر متوازن کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ ملک میں کاروبار کرنے کی بڑھتی ہوئی لاگت میں کمی لائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ایندھن کی موجودہ قیمتیں لاجسٹکس، ٹرانسپورٹ اور زرعی سپلائی چین کے اخراجات میں غیر متناسب اضافہ کررہی ہیں۔ ڈیزل ٹرانسپورٹ، زراعت اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ اس کی بلند قیمتوں کے باعث مہنگائی کے اثرات بھی سنگین ہورہے ہیں۔ عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ اگر پاکستان اپنی صنعتوں کو علاقائی سطح پر مسابقت کے قابل رکھنا اور برآمدات میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تو حکومت کو ایندھن کی قیمتوں کے حوالے سے حقیقت پسندانہ پالیسی اختیار کرنا ہوگی، بجائے اس کے کہ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کو حکومتی آمدنی کا اہم ذریعہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اپنی جگہ، تاہم ملک میں پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی اور دیگر ٹیکسز کا بھاری بوجھ کاروباری لاگت میں مسلسل اضافہ کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی سے اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل، ٹریکٹرز اور ٹیوب ویل چلانے کے اخراجات کم ہوں گے، جس سے زرعی اجناس کی قیمتوں میں استحکام اور عام صارفین کو ریلیف مل سکتا ہے۔ صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ پاکستانی برآمد کنندگان کو بھارت، بنگلہ دیش اور ویتنام سمیت خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اگر کاروباری لاگت اور لاجسٹکس اخراجات مسابقتی سطح پر نہ لائے گئے تو پاکستانی صنعتوں کو بندش اور عالمی منڈی میں اپنے حصے میں کمی کے خطرے کا سامنا رہے گا۔ انہوں نے حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکس اور لیوی کا ازسرنو جائزہ لینے اور صنعت و کاروباری برادری کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کا مطالبہ کیا۔