Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
اسلام آباد/کوئٹہ(ویب ڈیسک) پاکستان بار کونسل نے سابق وزیراعظم عمران خان کی منتقلی، طبی معائنے اور علاج سے متعلق 18 اگست 2026 کے سپریم کورٹ کے حکم پر حکومت اور متعلقہ حکام کی جانب سے عملدرآمد نہ کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے عدالتی حکم کی مکمل تعمیل اور خلاف ورزی کے ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔پاکستان بار کونسل کے ارکان عابد شاہد زیبری، محمد مقصود،شفقت محمود چوہان، منیر احمد کاکڑ، عبدالستار خان، سلمان اکرم راجہ، صلاح الدین احمد، قاضی محمد ارشد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا حکم واضح، غیر مبہم اور لازم التعمیل تھا، تاہم انتظامیہ نے عدالتی ہدایات کو نظرانداز کرتے ہوئے ان کی خلاف ورزی کی۔بیان میں کہا گیا کہ عدالتی حکم کی مبینہ خلاف ورزی عدلیہ کی آزادی، اختیار اور وقار پر سنگین حملہ ہے، جبکہ اس سے قانون کی حکمرانی اور آئینی طرز حکمرانی کی بنیادیں متاثر ہوتی ہیں۔پاکستان بار کونسل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی احکامات ریاستی اقدامات کے خلاف شہریوں کے بنیادی حقوق کا اہم آئینی تحفظ ہیں، اس لیے ان احکامات کو نظرانداز کرنے سے ہر شہری کے حقوق من مانے اور غیر قانونی ریاستی اقدامات کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔بیان کے مطابق سپریم کورٹ نے اپنے حکم کے پیراگراف 14 میں عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے کے نتائج واضح کیے تھے اور انتظامیہ عدالتی ہدایات کی پابندی اور عدم تعمیل کے نتائج سے پوری طرح آگاہ تھی۔ کونسل نے کہا کہ نظرثانی درخواست دائر کیے جانے سے سپریم کورٹ کا حکم معطل نہیں ہوتا اور نہ ہی حکومت کو عدالتی حکم نظرانداز کرنے کا اختیار ملتا ہے۔پاکستان بار کونسل نے مطالبہ کیا کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔بیان میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ ترامیم قانون کی حکمرانی، عدلیہ اور آئین کی بالادستی کو متاثر کر چکی ہیں اور کسی بھی آئینی ترمیم سے سپریم کورٹ کے نافذالعمل حکم کی خلاف ورزی کو آئینی تحفظ حاصل نہیں ہو سکتا۔پاکستان بار کونسل نے سابق وزرائے اعظم اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ماضی میں طبی علاج کے لیے اختیار کیے گئے طریقہ کار کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ زندگی، صحت، وقار اور طبی علاج تک رسائی کا آئینی تحفظ سیاسی حالات کے مطابق مختلف افراد پر مختلف انداز میں کیوں لاگو کیا جائے۔کونسل کے ارکان نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور عدالتی حکم سے انحراف کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائے۔