Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
اسلام آباد (ویب ڈیسک)وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ دفاعی معاہدہ، مزید ممالک کی شمولیت کا فیصلہ طے شدہ مینڈیٹ کے مطابق ہو گا، تینوں ممالک کا اتحاد کسی ملک کےخلاف جارحانہ نوعیت کا نہیں ہے ۔مکہ معاہدے پر پارلیمنٹ ہاوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آصف نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سیکرٹریٹ کے قیام پر سیر حاصل بحث ہوئی جس دوران مجوزہ اتحاد کے سیکرٹریٹ کا اسٹرکچر اور مینڈیٹ زیر بحث آیا۔خواجہ آصف نے کہا کہ اجلاس میں سیکرٹری جنرل اور سیکرٹریٹ میں مختلف عہدوں اور شعبوں کے قیام پر غور کیا گیا جبکہ اتحاد میں نئے ممالک کی شمولیت کیلئے شرائط،طریقہ کار اور ٹائم فریم بھی زیربحث آئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اتحاد کے اسٹرکچر سے متعلق ڈرافٹ کو خاصی پذیرائی ملی ہے، سیکرٹریٹ اور تنظیمی ڈھانچے کی حتمی شکل دو تین ہفتوں میں تیار ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اکتوبر کے اوائل میں تینوں ممالک دوبارہ اجلاس کریں گے جس دوران کام کو حتمی شکل دی جائے گی تاہم نئے ممالک کی اتحاد میں شمولیت کی شرائط و ضوابط ابھی طے ہونا باقی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے ممالک کی شمولیت فوری ہو گی یا کسی عبوری مدت کے بعد اس حوالے سے فیصلہ بعد میں ہو گا، تقریبا ایک سے ڈیڑھ ماہ میں اتحاد کا بنیادی اسٹرکچر عملی شکل اختیار کر جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تمام معاملات حتمی نہیں ہوئے تاہم بنیادی اصول اور اسٹرکچر طے کر لئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ اتحاد خطے میں مضبوط دفاعی تعاون کی بنیاد بن سکتا ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق اتحاد کی شروعات اللہ کے گھر سے ہوئی،دعا ہے اللہ تعالی اس میں برکت ڈالے، اتحاد کا مقصد مشترکہ خطرات اور چیلنجز کا مل کر سامنا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک کا اتحاد کسی ملک کےخلاف جارحانہ نوعیت کا نہیں ہے اور یہ اتحاد کسی کے ساتھ لڑائی یا جارحیت کیلئے نہیں بنایا گیا بلکہ ہمارامقصد دفاعی معاہدہ ہے،کسی کیخلاف جارحانہ کارروائی کرنا نہیں۔انہوں نے کہا کہ تینوں رکن ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ ہوا تو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، دفاعی اتحاد کا مقصد تینوں ممالک کی باہمی حفاظت اور دفاع کو یقینی بنانا ہے۔وزیر دفاع کے مطابق مستقبل میں مزیداسلامی ممالک کی شمولیت کے حوالے سے طریقہ کار طے کیا جائے گا۔