مکران کوسٹل ہائی وے پر بڑھتے ہوئے حادثات قابل تشویش ہیں،عوامی حلقے

تربت(ویب ڈیسک)عوامی حلقوں نے مکران کوسٹل ہائی وے پر بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اہم شاہراہ مناسب منصوبہ بندی اور حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے باعث مسافروں کے لیے موت کا کنواں بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے شاہراہ کی فوری توسیع، خطرناک مقامات پر حفاظتی اقدامات اور ٹریفک نظام کو مؤثر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔عوامی حلقوں کے مطابق مکران کوسٹل ہائی وے پر رات کے اوقات میں مسافر اور لوڈ بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت پر عائد پابندی کے باعث دن کے اوقات میں شاہراہ پر گاڑیوں کا غیر معمولی رش بڑھ جاتا ہے۔ سینکڑوں مسافر بسیں، ٹرک، ٹریلر اور دیگر گاڑیاں ایک ہی وقت میں سڑک پر آنے سے ٹریفک کا دباؤ بڑھتا ہے، جس کے نتیجے میں حادثات کے امکانات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مکران کوسٹل ہائی وے مکران ڈویڑن کو ملک کے دیگر علاقوں سے ملانے والی انتہائی اہم شاہراہ ہے، تاہم کئی مقامات پر سڑک کی موجودہ ساخت بڑھتی ہوئی ٹریفک کے لیے ناکافی ہے۔ بالخصوص بزی ٹاپ جیسے پہاڑی اور خطرناک راستے پر سڑک کشادہ کرنے کے ساتھ حفاظتی دیواریں، مناسب سائن بورڈز، ریفلیکٹرز، اسپیڈ کنٹرول اور دیگر ضروری حفاظتی انتظامات کیے جانے چاہئیں۔عوامی حلقوں کا کہنا تھا کہ بزی ٹاپ سمیت خطرناک پہاڑی مقامات پر سڑک کی چوڑائی اور ڈیزائن کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنایا جائے تاکہ ایک ہی وقت میں مخالف سمت سے آنے والی گاڑیوں کے محفوظ گزرنے کی گنجائش پیدا ہو اور اوورٹیکنگ کے دوران حادثات کا خطرہ کم کیا جا سکے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مکران کوسٹل ہائی وے کو مرحلہ وار ڈبل کیا جائے اور جہاں فوری طور پر ڈبل روڈ ممکن نہ ہو وہاں کم از کم خطرناک مقامات کو ترجیحی بنیادوں پر کشادہ اور محفوظ بنایا جائے۔عوامی حلقوں نے رینٹ اور مسافر گاڑیوں کے ڈرائیوروں کی فٹنس پر بھی توجہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈرائیونگ لائسنس اور گاڑی کی فٹنس کے ساتھ ڈرائیور کی جسمانی و ذہنی صحت، بینائی اور دیگر ضروری طبی ٹیسٹ بھی باقاعدگی سے کیے جائیں۔ طویل روٹس پر ڈرائیوروں کے اوقاتِ کار اور آرام کے نظام کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ تھکن اور نیند کے باعث ہونے والے حادثات کی روک تھام کی جا سکے۔انہوں نے محکمہ ٹرانسپورٹ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مکران روٹ پر ٹرانسپورٹ قوانین، ڈرائیوروں کی فٹنس، گاڑیوں کی حالت، اوورلوڈنگ، تیز رفتاری اور دیگر خلاف ورزیوں کی مؤثر نگرانی نہ ہونے کے باعث مسائل سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ متعلقہ محکمے کو صرف حادثے کے بعد کارروائی کرنے کے بجائے مستقل بنیادوں پر شاہراہ کی نگرانی کا نظام قائم کرنا چاہیے۔عوامی حلقوں نے حکومت بلوچستان، محکمہ ٹرانسپورٹ، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مکران کوسٹل ہائی وے پر حادثات کی وجوہات کا جامع جائزہ لے کر ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جائیں، خطرناک مقامات کی نشاندہی کی جائے، سڑک کو کشادہ اور محفوظ بنایا جائے، ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے اور ڈرائیوروں و گاڑیوں کی فٹنس چیکنگ کا مؤثر نظام نافذ کیا جائے۔عوامی حلقوں نے کہا کہ اگر شاہراہ کی حالت، ٹریفک مینجمنٹ اور ڈرائیوروں کی فٹنس سے متعلق مسائل پر فوری توجہ نہ دی گئی تو قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا سلسلہ مزید بڑھ سکتا ہے، جس کی ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *