Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
کوئٹہ(ویب ڈیسک) ریلوے کوآپریٹو سوسائٹی، بروری روڈ کوئٹہ کے مکینوں نے سوسائٹی میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر قائم غیر قانونی اور غیر مجاز پانی کے کنکشنز پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔مکینوں کے مطابق سوسائٹی کی تقریباً ہر گلی میں غیر قانونی پانی کے کنکشنز موجود ہیں، جبکہ بعض گھروں میں مبینہ طور پر دو سے تین تک غیر مجاز کنکشنز قائم کیے گئے ہیں۔ ان غیر قانونی کنکشنز کے باعث پانی کی منصفانہ تقسیم متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ سرکاری واٹر سپلائی نظام پر بھی اضافی دباؤ پڑ رہا ہے۔مکینوں نے مزید الزام عائد کیا ہے کہ بعض بااثر افراد نے بڑے قطر کی پائپ لائنز کے ذریعے غیر قانونی کنکشنز قائم کیے ہیں اور مبینہ طور پر ان کے لیے WASA کے منیجنگ ڈائریکٹر اور محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے سیکریٹری کی منظوری یا اجازت کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان دعوؤں کی فوری اور غیر جانب دارانہ طور پر تصدیق کی جائے اور اگر کسی سرکاری منظوری کا دعویٰ کیا گیا ہے تو اس کا ریکارڈ بھی سامنے لایا جائے۔مکینوں نے سیکریٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ، کمشنر کوئٹہ، منیجنگ ڈائریکٹر WASA کوئٹہ اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سوسائٹی میں موجود تمام غیر قانونی اور غیر مجاز پانی کے کنکشنز فوری طور پر منقطع کیے جائیں، سوسائٹی کی تمام گلیوں کا مکمل سروے کرکے غیر قانونی کنکشنز اور بڑی قطر کی پائپ لائنز کی نشاندہی کی جائے،جن کنکشنز کے لیے WASA یا محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی منظوری کا دعویٰ کیا جاتا ہے، ان کے تمام ریکارڈ اور اجازت ناموں کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے، غیر قانونی کنکشنز لگانے، سہولت فراہم کرنے یا ان کی سرپرستی کرنے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے،منقطع کیے گئے غیر قانونی کنکشنز کی دوبارہ تنصیب روکنے کے لیے مسلسل نگرانی اور مؤثر مانیٹرنگ کا نظام قائم کیا جائے،6. قانونی اور مجاز صارفین کے لیے پانی کے کنکشنز کا شفاف اور باقاعدہ نظام یقینی بنایا جائے،. تمام رہائشیوں کو منصفانہ اور مساوی بنیادوں پر پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔مکینوں نے واضح کیا کہ سرکاری وسائل کسی فرد یا گروہ کے ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہیں ہونے چاہئیں اور کسی بھی شخص کو غیر قانونی طریقے سے پانی کے حصول یا ترجیحی سہولت کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔انہوں نے متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے شفاف تحقیقات کی جائیں اور غیر قانونی کنکشنز کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرکے سوسائٹی میں پانی کی منصفانہ اور قانونی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔