Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

کوئٹہ(ویب ڈیسک) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ رواں سال جولائی میں درآمدات میں 19 فیصد اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ 26 فیصد بڑھ گیا۔ یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ معیشت میں سرگرمی بڑھنے کے ساتھ بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ بھی دوبارہ شدت اختیار کر رہا ہے، حکومت کو اس صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ جولائی میں 80 کروڑ 54 لاکھ ڈالر کی غذائی اشیا درآمد کی گئیں، جن کی مالیت 224 ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔ بچوں کے دودھ اور کریم کی درآمد 25 فیصد بڑھ کر ایک کروڑ 87 لاکھ ڈالر رہی، جبکہ پام آئل، سویابین، مصالحوں، چینی اور دالوں سمیت متعدد اشیائے ضروریہ بھی بیرون ملک سے منگوائی گئیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ماہ 112 میٹرک ٹن چینی کی درآمد بھی ریکارڈ ہوئی، جو مقامی پیداوار، ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں کے انتظام سے متعلق اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔ ضروری ہے کہ حکومت درآمدی اشیا کے ساتھ ساتھ مقامی پیداوار بڑھانے اور زرعی شعبے کو مضبوط بنانے پر بھی خصوصی توجہ دے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ سب سے نمایاں اضافہ مشینری کی درآمد میں ہوا، جو 41 فیصد بڑھ کر ایک ارب 31 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی۔ پاور جنریشن، ٹیکسٹائل، زراعت، تعمیرات، ٹیلی کام اور دفتری مشینری کی بڑھتی ہوئی درآمد ایک طرف صنعتی و پیداواری سرگرمیوں کی بحالی کا اشارہ ہے، تاہم دوسری جانب یہ درآمدی بل میں اضافے کا سبب بھی بن رہی ہے۔ اگر درآمدات کا بڑا حصہ محض کھپت پر مبنی رہا تو تجارتی عدم توازن مزید گہرا ہو سکتا ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ حکومت کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ درآمدات میں ہونے والے اضافے کو برآمدی نمو، صنعتی پیداوار اور روزگار کے مواقع میں تبدیل کیا جائے۔ بڑھتا ہوا درآمدی بل زرمبادلہ کے ذخائر، روپے کی قدر اور بیرونی ادائیگیوں پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ درآمدی پالیسی، صنعتی پیداوار اور برآمدی حکمت عملی کو مربوط انداز میں آگے بڑھایا جائے تاکہ درآمدی ضروریات کو مقامی پیداوار کے ذریعے کم کیا جا سکے اور برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہو۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ معیشت کی پائیدار بحالی کا معیار صرف درآمدات کا بڑھنا نہیں بلکہ برآمدات، صنعتی پیداوار، روزگار میں اضافہ اور تجارتی خسارے میں کمی ہونا چاہیے۔ حکومت کو موجودہ صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایسی جامع معاشی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے جو درآمدات کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو پیداواری اور برآمدی سرگرمیوں میں تبدیل کر سکے۔