Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
کوئٹہ(ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے سینئر رہنماء اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ سیدال خان ناصر کے کمیونیکیشن افئیر کوارڈینیٹر لیاقت اقبال راجپوت نے کہا ہے کہ خواتین کی معاشی خود مختاری اور بااختیار ہونا نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کے لیے بنیادی شرط ہے جب خواتین کو معاشی طور پر مضبوط بنایا جاتا ہے تو اس کے اثرات براہ راست خاندان کی صحت، تعلیم اور مجموعی معیارِ زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں لیاقت اقبال راجپوت نے کہا کہ جیسا کہ بلوچستان میں کڑھائی، سلائی، قالین بافی، اور بلوچی ہنر (جیسے کہ بلوچی کڑھائی اور شیشہ ورک) کا کام گھر گھر میں کیا جاتا ہے اگر ان ہنر مند خواتین کو جدید مارکیٹ تک رسائی، معیاری مواد اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے فروخت کے مواقع فراہم کیے جائیں تو یہ شعبہ لاکھوں خاندانوں کا معاشی سہارا بن سکتا ہے اس کے ساتھ ساتھ خواتین کو چھوٹے پیمانے پر کاروبار شروع کرنے کے لیے سود سے پاک قرضے اور آسان اقساط پر مالی اعانت فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ گھریلو صنعتیں، پولٹری فارمنگ، یا لائیواسٹاک (مال مویشی) جیسے روزگار خود استوار کر سکیں اور اس سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کی کامیاب پالیسیوں انکاربالکل ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ پسماندہ اضلاع میں خواتین کے لیے خاص طور پر آئی ٹی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سلائی کٹائی اور دیگر ہنر مند کورسز کے مراکز کا قیام سے آنے والے دور کے چیلنجز اور گھر بیٹھے فری لانسنگ اور آن لائن کاروبار کے ذریعے بھی کما سکتی ہیں۔لیاقت راجپوت نے کہا کہ بلوچستان کے دیہی علاقوں میں خواتین زراعت اور مویشی پالنے کے امور میں پیش پیش ہوتی ہیں۔ اگر انہیں جدید زرعی طریقوں، لائیو اسٹاک کی دیکھ بھال، اور ڈیری فارمنگ کی تربیت دی جائے تو دیہی معیشت میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے غرض یہ کہ خواتین کی معاشی شمولیت کو فروغ دے کر نہ صرف غربت میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ معاشرے کو زیادہ متوازن اور ترقی یافتہ بنایا جا سکتا ہے۔