Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
اسلام آباد(ویب ڈیسک)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ کے اجلاس میں پولٹری صنعت نے انکشاف کیا ہے کہ قطر، کویت اور عمان سمیت بعض خلیجی ممالک کی منفی فہرست میں پاکستانی انڈے شامل ہیں، جس کے باعث برآمدات متاثر ہورہی ہیں۔سید حسین طارق کی زیر صدارت اجلاس میں سیکریٹری قومی غذائی تحفظ عامر علی احمد نے کمیٹی کو لائیو اسٹاک کے شعبے اور گوشت کی برآمد سے متعلق بریفنگ دی۔سیکریٹری قومی غذائی تحفظ کے مطابق لائیو اسٹاک کا مجموعی ملکی پیداوار میں حصہ 15 فیصد جبکہ زراعت میں اس کا حصہ 62 فیصد ہے۔ پاکستان سے گوشت کی برآمد کے لیے 29 ہزار فعال اور منظور شدہ ادارے موجود ہیں۔ تاریخیکتب اور دستاویزی فلمیں دریافت کرناانہوں نے بتایا کہ گوشت کی برآمد کے لیے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں 17 جبکہ ایران میں 10 ادارے منظور شدہ ہیں۔ قطر اور عمان سمیت دیگر ممالک میں گوشت کی برآمد کے لیے منظوری کا عمل جاری ہے۔عامر علی احمد کے مطابق مویشیوں میں پھیلنے والی منہ کھر کی بیماری لائیو اسٹاک کی برآمدی صلاحیت استعمال کرنے میں سب سے بڑا چیلنج ہے۔ بیماری پر قابو پانے کے لیے عالمی معیار کے مطابق اقدامات ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں سے گوشت برآمد کرنے کی صورت میں قیمت اور مسابقت متاثر ہوتی ہے جبکہ منہ کھر کی بیماری کے باعث گوشت ہڈی کے بغیر برآمد کرنا پڑتا ہے، جس سے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔سیکرٹری نے بتایا کہ منہ کھر کی بیماری کے تدارک کے لیے 2025 میں منصوبہ منظور کیا گیا تھا اور اس پر کام شروع ہوچکا ہے۔ منصوبے کے حوالے سے صوبوں اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت بھی جاری ہے۔اجلاس میں پولٹری صنعت کے نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ شعبہ مسلسل مشکلات کا شکار ہے اور ٹیکسوں کے باعث مرغی کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔پولٹری صنعت کے مطابق متحدہ عرب امارات میں پاکستانی پولٹری مصنوعات پر بھارت کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس عائد ہے، جبکہ قطر، کویت اور عمان میں پاکستانی انڈے منفی فہرست میں شامل ہیں۔نمائندوں نے کہا کہ حکومتی تعاون سے پولٹری مصنوعات کی برآمد میں نمایاں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان سے اس وقت تقریباً 100کنٹینر انڈے برآمد کیے جاتے ہیں۔پولٹری صنعت نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جن ممالک میں پاکستانی انڈے منفی فہرست میں شامل ہیں، وہاں سفارتی سطح پر مداخلت کرکے پابندیاں ختم کرائی جائیں۔ سعودی عرب کے فوڈ لائسنس کے حصول میں بھی پاکستانی کمپنیوں کی مدد کی جائے۔ پولٹری صنعت نے کہا کہ درآمدی سویابین کی قیمت اور پولٹری ادویات پر زیادہ ڈیوٹی کے باعث پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے۔نمائندوں نے سوشل میڈیا پر مرغی کے گوشت اور انڈوں سے متعلق منفی مواد کو بھی صنعت کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے ایسے مواد کی روک تھام کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کیا۔اجلاس میں سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ 6 خلیجی ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں پر کام جاری ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر اور عمان کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں کے حوالے سے پیش رفت جاری ہے۔