حالیہ امریکی حملوں میں 18 افراد ہلاک جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوئے: ایرانی وزیرِ صحت کا دعویٰ

ایران [انٹرنیشنل ڈیسک]ایران کے وزیرِ صحت محمد رضا ظفرقندی نے ایک اعلان میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ’پیر اور منگل کی درمیانی شب مختلف صوبوں میں ہونے والے امریکی حملوں میں 18 افراد ہلاک اور 108 زخمی ہوئے ہیں۔یہ 40 روزہ جنگ کے بعد ہونے والے امریکہ کے شدید ترین حملوں میں سے ایک ہے۔امریکی حملوں میں سیرِک کے پہاڑی علاقے بھی نشانہ بننے والے مقامات میں شامل تھے۔ایرانی حکام کے مطابق امریکی حملوں کے دوران ایک خاتون اور ایک بچے سمیت چار افراد ہلاک اور 65 زخمی ہوئے۔ یہ افراد ایک شادی کی تقریب میں شریک تھے۔ہرمزگان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے صدر پژمان شاہروخی نے بتایا کہ سیرِک کے پہاڑی علاقے میں پیش آنے والے واقعے میں زخمی ہونے والے چھ افراد انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں جبکہ 26 سرجیکل وارڈز میں زیرِ علاج ہیں۔بی بی سی فارسی کے ایک سوال کے جواب میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے حملے کی تردید نہیں کی اور کہا کہ وہ ان رپورٹس سے ’آگاہ‘ ہیں۔ تاہم انھوں نے زور دے کر کہا کہ امریکی فوج کبھی شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی۔خوزستان صوبے میں اہواز اور آغاجاری کے مختلف مقامات پر ہونے والے حملوں میں سات افراد کی ہلاکت اور آٹھ کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں کم از کم ایک شخص کو ’عوامی سکیورٹی فورسز‘ کے رکن کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔پاسدارانِ انقلاب نے بھی تصدیق کی ہے کہ صوبہ کرمانشاہ میں آئی آر جی سی کی ایرو سپیس فورس کے چار اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق لاوان جزیرے پر امریکی حملے کے بعد بسیج فورسز کے تین اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *