Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

تربت(ویب ڈیسک)عوامی حلقوں اور والدین نے نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں بچوں پر مبینہ تشدد کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کو تشدد سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔عوامی حلقوں کے مطابق تربت کے فیملی گرامر اسکول میں زیرِ تعلیم ایک کمسن طالب علم کو اساتذہ کی جانب سے مبینہ طور پر بدترین تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات انتہائی تشویشناک اور افسوسناک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی ادارے بچوں کے لیے علم، تربیت، کردار سازی اور تحفظ کا مرکز ہوتے ہیں، جہاں تشدد یا خوف کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔والدین اور شہریوں نے کہا کہ اگر مذکورہ طالب علم پر تشدد کیے جانے کی شکایت درست ہے تو معاملے کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، متاثرہ بچے اور اس کے والدین کا مؤقف سنا جائے اور حقائق سامنے آنے کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف قانون و ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے۔عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر کیچ سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ تعلیمی ادارے کے خلاف تحقیقات کرائی جائیں اور اس امر کا بھی جائزہ لیا جائے کہ اسکول میں بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین اور ضوابط پر کس حد تک عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے بچوں پر تشدد کی روک تھام کے لیے پابندی اور اقدامات کے باوجود اگر تعلیمی اداروں میں بچوں کو جسمانی یا ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو یہ صورتحال لمحہ فکریہ ہے۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن اور قانونی حیثیت کا بھی جائزہ لیا جائے اور اگر کوئی ادارہ قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا جائے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔والدین کا کہنا تھا کہ بچوں کو سزا دینے کے نام پر جسمانی تشدد نہ صرف ان کی جسمانی صحت بلکہ ذہنی نشوونما اور تعلیمی کارکردگی پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے، اس لیے اساتذہ اور اسکول انتظامیہ کو بچوں کی تربیت کے لیے مثبت اور غیرتشدد پر مبنی طریقے اختیار کرنے چاہئیں۔عوامی حلقوں نے مزید مطالبہ کیا کہ بچوں پر تشدد کرنے والے اساتذہ یا عملے کے ارکان کے خلاف تحقیقات کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور اگر الزامات ثابت ہوں تو انہیں ملازمت سے برطرف کرنے سمیت مناسب سزا دی جائے، تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔انہوں نے واضح کیا کہ کسی فرد یا ادارے کو بغیر تحقیق بدنام کرنا مقصد نہیں، تاہم بچوں کے تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق پر سمجھوتہ بھی قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تربت کے تمام تعلیمی اداروں میں بچوں کے لیے محفوظ، پْرامن اور باعزت تعلیمی ماحول یقینی بنانا حکومت، تعلیمی انتظامیہ اور اسکول مالکان کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔