بلوچستان اس وقت بدترین بدامنی، بے یقینی اور حکومتی ناکامی کے سنگین بحران سے دوچار ہے،مولانا عبدالواسع

کوئٹہ(ویب ڈیسک) جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ بلوچستان اس وقت بدترین بدامنی، بے یقینی اور حکومتی ناکامی کے سنگین بحران سے دوچار ہے؛ روزانہ بے گناہ شہریوں کی لاشیں مل رہی ہیں، تھانے اور سرکاری تنصیبات جلائے جا رہے ہیں، جبکہ حکومت امن و امان قائم کرنے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ عوام کو عملاً دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، جبکہ حکومتی نمائندے عوام کے تحفظ کے بجائے اپنی ذاتی حفاظت کے لیے ریاستی وسائل استعمال کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کا حل محض طاقت، طاقت کے استعمال یا انتظامی جبر میں نہیں؛ طاقت کبھی بھی پیچیدہ سیاسی و قومی مسائل کے پائیدار حل کا موزوں آپشن نہیں رہی۔ اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز، سیاسی قوتوں، قبائلی عمائدین، عوامی نمائندوں اور متعلقہ ریاستی اداروں کو ایک میز پر بٹھا کر بامعنی، سنجیدہ اور نتیجہ خیز سیاسی مذاکرات کے ذریعے قابلِ قبول حل کی طرف بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی کا سفر نہ صرف رک چکا ہے بلکہ صوبے کو ایک مرتبہ پھر نوے کی دہائی کے بدترین حالات کی طرف دھکیل دیا گیا ہے؛ امن، سرمایہ کاری، روزگار اور معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں اور ریاست و عوام کے درمیان اعتماد کا بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ بلوچستان کے مسائل کے حل کی بنیادی شرط عوامی تائید اور حقیقی مینڈیٹ کی حامل حکومت کا قیام ہے، کیونکہ عوام کے اعتماد کے بغیر کوئی بھی سیاسی یا انتظامی بندوبست دیرپا استحکام پیدا نہیں کرسکتا۔ وفاق کو بلوچستان کے عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے پہل کرنا ہوگی اور عوامی حکومت کی تشکیل کے عمل کو سیاسی رشوت، جوڑ توڑ، سودے بازی اور محلاتی سازشوں کی نذر کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سرینا ہوٹل منصوبے اور مری معاہدوں جیسے بند کمروں میں ہونے والے فیصلوں اور سیاسی بندوبستوں نے بلوچستان کے سیاسی و جمہوری ڈھانچے کی جڑیں کمزور اور عوامی اعتماد کو مجروح کیا ہے؛ اب وقت آگیا ہے کہ ماضی کی ان غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے بلوچستان کے عوام کو ان کا حقیقی سیاسی حق، بااختیار نمائندگی اور پائیدار امن فراہم کیا جائے، کیونکہ بلوچستان کو طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ انصاف، سیاسی شمولیت، عوامی مینڈیٹ، آئینی حقوق اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے ہی بحران سے نکالا جاسکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *