قوموں کی ترقی کا عمل جدید علوم اور ٹیکنالوجی کے فروغ سے ممکن ہے،ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی

تربت(ویب ڈیسک)بالی اسکلز ہب تربت کے زیرِ اہتمام تربت پریس کلب کے آڈیٹوریم ہال میں پہلے بیچ کے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات میں سرٹیفکیٹس اور لیپ ٹاپس تقسیم کرنے کی تقریب منعقد ہوئی، جس کے مہمانِ خصوصی ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی تھے، جبکہ تقریب کی میزبانی بالی اسکلز ہب کے اونر شاہ دوست دشتی نے کی۔ تقریب میں طلبہ و طالبات، ان کے والدین و سرپرستوں، اساتذہ، صحافیوں، تاجروں، سماجی رہنماؤں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب میں بالی اسکلز ہب کے پہلے بیچ کے 120 طلبہ و طالبات میں کورس مکمل کرنے پر سرٹیفکیٹس جبکہ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے 15 طلبہ و طالبات میں لیپ ٹاپس تقسیم کیے گئے۔تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا، جس کے بعد مختلف مقررین نے جدید علوم، ٹیکنالوجی، فری لانسنگ، مصنوعی ذہانت اور آن لائن کامرس کی اہمیت پر اظہار خیال کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے کہا کہ قوموں کی ترقی کا عمل جدید علوم اور ٹیکنالوجی کے فروغ سے ممکن ہے، جبکہ موجودہ دور میں کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت (AI) کی تعلیم انتہائی ضروری ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہنرمند شخص دنیا کے کسی بھی حصے میں جائے، اس کی مہارت روزگار کے حصول کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہے اور اسے دنیا سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔انہوں نے طلبہ و طالبات پر زور دیا کہ وہ بالی اسکلز ہب سے حاصل کردہ مہارتوں کو محض ذاتی روزگار تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں سماجی بہتری، ثقافت کے فروغ اور معاشی استحکام کے لیے بھی استعمال کریں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ بلوچستان میں پلاسٹک بیگز کے متبادل کے طور پر ماحول دوست اور ثقافتی مصنوعات موجود ہیں، جنہیں کمپیوٹر، مصنوعی ذہانت اور جدید مارکیٹنگ کی مدد سے عالمی سطح پر متعارف کرایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزری کے پتوں سے تیار کردہ ٹوکریاں اور دیگر روایتی اشیاء  نہ صرف ہماری ثقافت کا حصہ ہیں بلکہ انہیں آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ملک اور بیرون ملک فروخت کرکے مقامی ہنرمندوں کے لیے معاشی مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔یاسر اقبال دشتی نے نوجوانوں کو آن لائن کامرس اور فری لانسنگ کی طرف توجہ دینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں نوجوان اپنے گھروں اور علاقوں میں رہتے ہوئے دنیا کی مختلف مارکیٹوں تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر تجارت اور مقامی معیشت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔انہوں نے بالی اسکلز ہب کے قیام اور شاہ دوست دشتی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو جدید علوم اور ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے کے لیے اس نوعیت کے تربیتی پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ نوجوان اپنی صلاحیتوں کے ذریعے معاشرے کے مثبت پہلوؤں کو دنیا کے سامنے اجاگر کرسکتے ہیں۔اس موقع پر بالی اسکلز ہب کے اونر شاہ دوست دشتی نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید علوم، ٹیکنالوجی اور عملی مہارتوں سے بہرہ مند کرنے کے مقصد سے بالی اسکلز ہب کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بیچ کے 120 طلبہ و طالبات نے کامیابی سے کورس مکمل کیا ہے، جبکہ 15 نمایاں طلبہ میں لیپ ٹاپس تقسیم کیے گئے ہیں۔شاہ دوست دشتی نے کہا کہ دنیا میں ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں جہاں نوجوان جدید ٹیکنالوجی، فری لانسنگ اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے خطیر آمدنی حاصل کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد نوجوانوں کو بااختیار بنانا ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے روزگار کے نئے مواقع حاصل کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں نوجوان مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نئی مہارتیں حاصل کررہے ہیں، اس لیے بلوچستان کے نوجوانوں کو بھی اس میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ نوجوانوں کی تربیت کا یہ سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور بالی اسکلز ہب مستقبل میں بھی مختلف تربیتی پروگرام منعقد کرے گا۔تربت پریس کلب کے سینئر صحافی طارق مسعود نے کہا کہ جدید دور میں ٹیکنالوجی کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ ہمارے نوجوانوں کے پاس صلاحیت اور مواقع موجود ہیں، تاہم انہیں مناسب رہنمائی اور تربیت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کے لیے اسکلز پروگرام شروع کرنے پر شاہ دوست دشتی کی کاوشوں کو قابلِ ستائش قرار دیا۔تقریب سے کورس مکمل کرنے والے طلبہ و طالبات نے بھی اظہار خیال کیا اور بالی اسکلز ہب کے زیرِ اہتمام تربیتی کورس کے انعقاد کو مثبت اقدام قرار دیتے ہوئے ادارے کے منتظمین اور بالخصوص شاہ دوست دشتی کا شکریہ ادا کیا۔تقریب میں انجمن تاجران کیچ کے صدر نثار آدم جوسکی، اعجاز علی محمد جوسکی، پی ڈی ایم اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ریحان دشتی، انجمن تاجران مکران کے صدر اسحاق روشن دشتی، کیچ تھیلیسمیا کیئر سینٹر کے سربراہ ارشاد عارف، میران حیات، محراب بلوچ، اسپورٹس آفیسر کیچ غفار دشتی، جمیل عمر، سماجی رہنما احد الٰہی میروزئی سمیت طلبہ و طالبات، والدین، سرپرستوں اور دیگر معززین نے شرکت کی۔تقریب کے اختتام پر کورس مکمل کرنے والے طلبہ و طالبات میں سرٹیفکیٹس جبکہ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے 15 طلبہ و طالبات میں لیپ ٹاپس تقسیم کیے گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *