بلڈوزر تفریق اور نفرت پر مبنی سیاست کی علامت بن چکا ہے، مولانا ارشد مدنی

نئی دہلی(کشمیر ڈیسک) جمعیت علمائے ہند کے صدرمولانا ارشد مدنی نے سہارنپور میں مسجد کو منہدم کئے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ واقعہ صرف ایک مسجد کا معاملہ نہیں بلکہ یہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی، شہری مساوات اور ریاست کے غیر جانبدارانہ کردار سے جڑا حساس معاملہ ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مولانا ارشد مدنی نے گہرے دکھ کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے نے ملک کے سامنے ایک بار پھر یہ بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا آئین اور قانون کی پابندی ہر شہری اور ہر مذہب کے لیے واقعی یکساں ہے؟ اگر آئین سب کو مساوات، مذہبی آزادی اور قانون کے یکساں تحفظ کا حق دیتا ہے تو اس کے اصل نفاذ میں دوہرا معیار کیوں نظر آتا ہے؟مولانا مدنی نے کہا کہ 1991 میں جو عبادت گاہوں کا قانون لایا گیا تھا، وہ اب بھی موجود ہے۔ انتظامیہ کی یہ کارروائی نہ صرف اس قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ جو نیا وقف قانون لایا گیا ہے، اس کے بھی خلاف ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس مسجد کی تو وقف بورڈ میں رجسٹریشن بھی ہے،اہم بات یہ ہے کہ یہ زمین شروع سے ہی یعقوب خان اور وحید خان کے نام  پر ہے، اس کے باوجود کارروائی کس انصاف کے تحت کی گئی؟مولانا ارشد مدنی نے واضح لفظوں میں کہا کہ اگر غیر قانونی قبضہ اور تجاوزات ہی کارروائی کا واحد معیار ہے تو پھر یہی معیار ہر مذہب اور ہر طبقے کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ لیکن اس طرح کے حیلوں اور بہانوں سے صرف ایک مخصوص مذہب کو ہی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مولانا مدنی نے یہ سوال بھی کیا کہ اگر ملک کے مختلف حصوں میں سرکاری زمینوں، سڑکوں، عوامی مقامات اور دوسری جگہوں پر برسوں اور دہائیوں سے مذہبی تعمیرات موجود ہیں، تو کیا ان تمام تعمیرات کے خلاف بھی انتظامیہ اسی عجلت، اسی سختی اور اسی معیار کے ساتھ کارروائی کر رہی ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر کسی ایک مذہبی مقام کے معاملے میں غیر معمولی سختی انصاف کے اصول پر سوال کھڑا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی مذہبی مقام کی ملکیت یا زمین سے متعلق قانونی تنازعے کو عدالت میں طے کیا جا سکتا ہے، لیکن طویل عرصے سے جاری مذہبی استعمال والی جگہ، تاریخی دستاویزات اور زمینی حقائق کو بھی قانون کے دائرے میں پوری سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں مسجد کمیٹی کا موقف بھی اہم ہے۔مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ کمیٹی نے عدالت میں مختلف تاریخی دستاویزات پیش کیے تھے کہ مسجد کا وجود کلکٹریٹ کی موجودہ عمارت سے پہلے کا ہے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق کمیٹی کی جانب سے 1911 سے متعلق دستاویزات، میونسپل ریکارڈ اور پرانے ریونیو ریکارڈ بھی عدالت کے سامنے رکھے گئے تھے، لیکن انہیں نظر انداز کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت حال میں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی مقام پر ایک صدی سے زیادہ عرصہ تک بغیر کسی رکاوٹ کے نماز ادا ہوتی رہی ہو، نسل در نسل لوگ اسے مسجد کے طور پر استعمال کرتے رہے ہوں اور اس کے قدیم ہونے سے متعلق دستاویزی دعوے بھی موجود ہوں تو اس پوری تاریخی حقیقت کو محض ایک انتظامی تنازعے کے طور پر دیکھنا کہاں تک مناسب ہے؟مولانا مدنی نے واضح کیا کہ یہ ملک کسی ایک مذہب یا کسی ایک طبقے کا نہیں ہے۔ ہندوستان ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی اور تمام مذاہب و عقائد کے لوگوں کا مشترکہ وطن ہے۔ آئین نے کسی کو پہلے درجہ اور کسی کو دوسرے درجہ کا شہری نہیں بنایا ہے۔ پھر انتظامیہ کے رویے سے ایسا احساس کیوں پیدا ہوتا ہے کہ مذہبی شناخت انصاف کے معیار کو متاثر کر رہی ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ ہم حکومت سے کوئی خصوصی رعایت نہیں مانگ رہے ہیں، ہم صرف مساوی انصاف مانگ رہے ہیں۔ ہمارا سوال بالکل سیدھا ہے، جو قانون مسجد کے لیے ہے، وہی قانون ہر مذہبی مقام کے لیے کیوں نہیں ہے؟ جو معیار ایک مسلمان کے لیے ہے، وہی دوسرے شہری کے لیے کیوں نہیں ہے؟ اگر آئین اور قانون سب کے لیے ہیں تو اس کا تحفظ اور نفاذ بھی سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *