آغا مجتبیٰ کا میڈیکل انٹرنز کے وظیفے میں اضافے کے مطالبے کی حمایت کااعلان

سرینگر(کشمیر ڈیسک)غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انجمن شرعی شیعیان کے جنرل سیکریٹری  آغا سید مجتبیٰ عباس الموسوی الصفوی نے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کے ماہانہ وظیفے میں اضافے کے جائز مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے قابض انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ سرکاری سطح پر تشکیل دی گئی کمیٹی کی جانب سے وظیفے میں اضافے کی سفارش کے باوجود اس معاملے میں تاخیر کو مزید طول نہ دیا جائے اور فوری فیصلہ کیا جائے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق آغا سید مجتبیٰ نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ موجودہ ماہانہ بارہ ہزار تین سو روپے کا وظیفہ انٹرن شپ کے دوران انجام دی جانے والی ذمہ داریوں، طویل اوقات کار اور نوجوان ڈاکٹروں پر عائد اہم طبی و پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے مقابلے میں انتہائی ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل اور ڈینٹل انٹرنز صحت عامہ کے نظام کا ایک اہم حصہ ہیں  اوربالخصوص سرکاری اسپتالوں اور طبی اداروں میں مریضوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے ان کی خدمات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ نوجوان ڈاکٹروں کے مالی اور پیشہ ورانہ مسائل سنجیدہ اور ہمدردانہ غور و فکر کے متقاضی ہیں۔ آغا مجتبیٰ نے کہا کہ یہ معاملہ اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی پہلے ہی وظیفے میں اضافے کی سفارش کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سفارش پر عمل درآمد میں مسلسل تاخیر انٹرنز میں پائی جانے والی تشویش کو مزید بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کے نمائندوں کے ساتھ بامعنی اور براہ راست بات چیت کا آغاز کرتے ہوئے ان کے مطالبے پر منصفانہ، شفاف اور مقررہ مدت کے اندر فیصلہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسئلے کا حل نہ صرف انٹرنز کے جائز خدشات کا ازالہ کرے گا بلکہ طبی اداروں میں ایک صحت مند اور سازگار ماحول برقرار رکھنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔انہوں نے احتجاج کرنے والے انٹرنز سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے جائز مطالبات کے لیے پرامن اور جمہوری ذرائع اختیار کرتے ہوئے اس امر کو یقینی بنائیں کہ مریضوں کی دیکھ بھال اور ضروری طبی خدمات کسی صورت متاثر نہ ہوں۔آغا سید مجتبیٰ  نے امید ظاہر کی کہ انتظامیہ اس معاملے کی حساسیت اور اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید کسی غیر ضروری تاخیر کے بغیر فیصلہ کن اقدام کرے گی اور انٹرنز کے جائز مطالبے کو اطمینان بخش طریقے سے حل کرے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *