Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

کوئٹہ(ویب ڈیسک) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں صحت عامہ کا مسئلہ مسلسل سنگین ہوتا جا رہا ہے، حکومت صورتحال کا فوری نوٹس لے اور صوبے میں مؤثر و مساوی نظامِ صحت کے قیام کیلئے ہنگامی اقدامات کرے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس، تپِ دق، ملیریا، ڈینگی، سانس کی بیماریاں، غذائی قلت، ماں اور بچے کی صحت کے مسائل کے ساتھ کینسر، دل اور گردوں کی بیماریاں بھی بڑے چیلنجز بن چکی ہیں۔ صاف پانی کی کمی، ناقص نکاسی? آب، غربت، کم طبی آگاہی اور دور دراز علاقوں میں بنیادی صحت مراکز تک محدود رسائی بیماریوں کے پھیلاؤ کی اہم وجوہات ہیں۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ غریب خاندان، خواتین، بچے، بزرگ اور دیہی و دور افتادہ علاقوں کے عوام صحت کی سہولیات کی کمی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ جدید تشخیص اور خصوصی علاج کی سہولیات زیادہ تر کوئٹہ تک محدود ہیں، جس کے باعث دور دراز علاقوں کے مریضوں کو علاج کیلئے طویل سفر اور اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کینسر کے علاج کیلئے آنکولوجسٹ، ریڈیولوجسٹ، آنکولوجی نرسوں اور جدید ریڈیوتھراپی کی سہولیات ناگزیر ہیں۔ اسی طرح ماہر امراض قلب، گردہ، کینسر، بچوں، خواتین و زچگی، پھیپھڑوں اور متعدی امراض کے مزید ماہر ڈاکٹرز کی فوری ضرورت ہے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ حکومت بڑے ہسپتالوں کے ساتھ بنیادی مراکزِ صحت، موبائل کلینکس اور ٹیلی میڈیسن کا دائرہ وسیع کرے، دیہی علاقوں میں ماہر ڈاکٹرز تعینات کرے اور صاف پانی، ویکسینیشن، بروقت تشخیص اور بیماریوں سے بچاؤ کے اقدامات کو ترجیح دے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کا علاج صرف ادویات فراہم کرنا نہیں بلکہ ایک مضبوط، مساوی، قابلِ رسائی اور عوام تک پہنچنے والا صحت کا نظام یقینی بنانا ہے۔