کوئٹہ حکومت نے اپنے ہی کابینہ کے رکن، پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما صادق عمرانی کو نشانے پر رکھ لیا

کوئٹہ (ویب ڈیسک )بلوچستان اسمبلی میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر صادق عمرانی کے خلاف مذمتی قرارداد پیش ایوان میں مشترکہ قرارداد پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی علی مدد جتک نے پیش بلوچستان کی سمندری حدود میں ٹرالر مافیا سے متعلق توجہ دلاو نو ٹس۔ غیر فعال ہواءی اڈوں کو فعال کرنے اور سندھ میں پشتون تاجروں کو تحفظ فراہم کرنے کی قرادادیں بھی پیش کی گئیبلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکرعبدالخالق اچکزئی کی صدارت میں ہوا ایوان میں صوبائی وزیر صادق عمرانی کیخلاف بلوچستان اسمبلی میں قرار داد پیش کی گئی قرار داد صوبائی وزررا ضیا لانگو ‘ نور محمد دوڑ ‘ بخت کاکڑ ‘ علی مدد جتک کیجانب سے پیش کی گئی اراکین اسمبلی برکت رند ‘ اسفندیار کاکڑ ‘ ہادیہ نواز اور فرح عظیم شاہ بھی قرار داد کے محرکین میں شامل مشترکہ مذمتی قرارداد صوبائی وزیر میر علی مدد جتک نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ صوبائی وزیرصادق عمرانی نے کہا ہے کہ صوبے کے 235 افراد کو اسلام آباد بلا کر بے عزت کیا گیاحالانکہ بلوچستان کے لوگوں کو اس کانفرنس میں بہت عزت دی گئی تھی میر صادق عمرانی کے الفاظ سے صوبے کے عوام کی دل آزاری ہوئی ہے ۔اکتیس اگست کو بلوچستان اسمبلی اجلاس میں صادق عمرانی کی تقریر کی مذمت کرتے ہیں اسمبلی کارروائی سے صادق عمرانی کے الفاظ حذف کرنیکا مطالبہ کرتے ہیں ایوان میں گوادر میں ٹرالر مافیا کی غیر قانونی سرگرمیوں سے متعلق توجہ دلاو نوٹس رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے پیش کیا بی این پی عوامی کے اسد بلوچستان نے صوبے میں امن وامان کی مخدوش صورتحال کے پیش نزر غیر فعال ہوای اڈون کو فعال کرنے جبکہ جمعیت علماء اسلام کے اصغر ترین نے سندھ میں پشتون تاجروں کو تحفظ فراہم کرنے کی قرارداد پیش کی اجلاس پانچ ستمبر تک ملتوی کردیا گیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *