عالمی ثالثی عدالت میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق حالیہ فیصلوں نے پاکستان کے موقف کو مضبوط کیا ہے،پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے فوکل پرسن چوہدری نعیم کریم

کوئٹہ(ویب ڈیسک)پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے فوکل پرسن وپاکستان مسلم لیگ(ن) کے مرکزی سینئر رہنما چوہدری نعیم کریم نے کہا ہے کہ عالمی ثالثی عدالت میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق حالیہ فیصلوں نے پاکستان کے موقف کو مضبوط کیا ہے اور بھارت کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل نہیں کرسکتا اور نہ ہی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبی منصوبے تعمیر کرسکتا ہے۔مسلم لیگ(ن) بلوچستان کے رابطہ آفس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں چوہدری نعیم کریم نے کہا کہ بین الاقوامی عدالت نے پاکستان کے اصولی موقف کو تسلیم کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے میں کوئی بھی ترمیم یا تبدیلی نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس سے پیچھے ہٹ سکتا ہے یہ معاہدہ دونوں ممالک پر یکساں طور پر لازم ہے۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے بھارتی ہٹ دھرمی کو عالمی سطح پر شدید قانونی دھچکا لگا ہے اور پاکستان کا موقف مزید مضبوط ہو کر سامنے آیا ہے،پاکستان اپنے دریاوں پر کسی بھی غیر قانونی تعمیر یا پانی کی چوری کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ بنانے اور اس کے بعد رتلے منصوبے کو ڈیزائن کرنے پر پاکستان نے اعتراض اٹھایا تھا کہ ان منصوبوں کے ڈیزائن سندھ طاس معاہدے کی ضروریات پوری نہیں کرتے پاکستان اس معاملے کو ثالثی عدالت میں لے جانا چاہتا تھا جبکہ بھارت کا موقف تھا کہ معاملے کے لیے نیوٹرل ایکسپرٹ مقرر کیا جائے۔ تاہم ثالثی عدالت نے 2023 میں فیصلہ دیا کہ وہ اس تنازع کو سننے کی مکمل اہلیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مئی اور اگست میں آنے والے فیصلوں میں بھی بھارت کے آبی منصوبوں، ان کے ڈیزائن اور پانی ذخیرہ کرنے کی حدود سے متعلق معاہدے کی شرائط واضح کی گئیں، 31اگست کو سامنے آنے والے تازہ فیصلے میں معاملہ مزید واضح ہوگیا اور بھارت سے کہا گیا کہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنائے جانے والے منصوبوں کی تعمیر روک دی جائے۔چوہدری نعیم کریم نے کہا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے اورثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد اپنا حق نہیں چھوڑے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *