Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

کراچی (سپورٹس ڈیسک)انگلینڈ میں ابتدائی دو ٹیسٹ میچز میں عبرتناک شکست کے بعد قومی اسکواڈ سے دوران سیریز سات کھلاڑیوں کو نکالنے کے فیصلے پر سابق کرکٹرز کی جانب سے کڑی تنقید کی گئی۔پاکستان کو 2011 کے ورلڈکپ میں سیمی فائنل تک لے جانے والے کپتان شاہد آفریدی نے کہا کہ اس فیصلے کی منطق سمجھ نہیں آئی، یہاں تک کہ متبادل کھلاڑیوں کا انتخاب بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔انہوں نے کہا کہ انگلینڈ میں ہونے والے ٹیسٹ میچ کیلئے ٹی ٹوئنٹی کے کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کر لیا گیا ہے؟ یہ کیسی سوچ اور کیسا طرزِ عمل ہے؟شاہد آفریدی نے سوال اٹھایا کہ محض 5 ٹیسٹ میچوں کے بعد کوچ کو کیوں ہٹا دیا گیا؟سابق کپتان نے کہا کہ اتنے سارے تجربہ کار سلیکٹرز پر مشتمل سلیکشن کمیٹی کی جانب سے یہ اب تک کا سب سے زیادہ حیران کن فیصلہ ہے۔ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے اولین ایڈیشن میں پاکستان کو فائنل تک لے جانے والے کپتان شعیب ملک نے کہا کہ اسکواڈ سے ڈراپ کیے جانے والے کھلاڑی اب بھی ہمارے قومی کرکٹرز ہیں جنہوں نے پاکستان کی خدمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی کھلاڑیوں کے لیے ’پہلی فلائٹ سے واپس بھیجنے‘ جیسے جملے توہین آمیز ہیں۔شعیب ملک نے کہا کہ احتساب کا آغاز کھلاڑیوں سے نہیں بلکہ ان لوگوں سے ہونا چاہیے جنہوں نے نظام کو خراب کیا،بینچ پر بیٹھے یا صرف دو، تین ٹیسٹ میچز کھیلنے والے کھلاڑیوں کا احتساب نہیں ہونا چاہیے تھا۔انہوں نے کہاکہ احتساب کا عمل بھی دورے کے اختتام پر شروع ہونا چاہیے تھا۔شعیب ملک نے سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ہر خراب میچ کے بعد کھلاڑیوں کو اس قسم کے ذہنی دباؤ اور تنقید کا سامنا نہیں کرنا چاہیے، ورنہ ناکامی کا خوف ہمارے کھلاڑیوں کے ذہنوں میں بس جائے گا۔سابق ٹیسٹ کرکٹر تنویر احمد نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کا بیڑا غرق کردیا ہے، کسی کو کسی کی عزت کی پروا نہیں ہے۔