Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
تربت(ویب ڈیسک)گرمیوں کی طویل تعطیلات ختم ہونے کے باوجود ضلع کیچ کے مختلف علاقوں میں متعدد سرکاری اسکول تاحال مکمل طور پر فعال نہیں ہوسکے، جبکہ بعض اسکولوں میں اساتذہ کی مبینہ غیرحاضری کے باعث تدریسی عمل متاثر ہونے کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔ عوامی حلقوں نے محکمہ تعلیم کی کارکردگی اور اسکولوں کی نگرانی کے نظام پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔عوامی حلقوں کے مطابق تعطیلات کے بعد سرکاری اسکول کھلنے چاہئیں تھے، تاہم ضلع کیچ کے مختلف علاقوں میں کئی اسکول تاحال بند یا غیر فعال ہیں، جس کے باعث طلبہ و طالبات کی تعلیم کا حرج ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض سرکاری اسکولوں میں مرد و خواتین اساتذہ مبینہ طور پر اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضر ہیں، جبکہ کئی اساتذہ طویل عرصے سے اسکولوں میں باقاعدگی سے حاضر نہیں ہو رہے۔شہریوں نے الزام عائد کیا کہ خصوصاً بعض خواتین اساتذہ، جن کے شوہر بااثر یا بڑے عہدوں پر فائز ہیں، ضلع کیچ سے باہر دیگر صوبوں میں مقیم ہیں، مگر اس کے باوجود سرکاری ملازمت سے تنخواہیں وصول کر رہی ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو قانون و ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے۔عوامی حلقوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ تربت شہر کے بعض سرکاری اسکولوں میں تعینات اساتذہ مبینہ طور پر نجی اسکولوں میں بھی تدریس کر رہے ہیں اور ایک ہی وقت میں سرکاری خزانے سے تنخواہیں وصول کرنے کے ساتھ نجی اداروں سے بھی مالی فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ شہریوں کے مطابق اگر کوئی سرکاری استاد سرکاری ڈیوٹی کے اوقات میں نجی ادارے میں تدریسی خدمات انجام دے رہا ہے تو یہ نہ صرف طلبہ کے حقِ تعلیم سے زیادتی ہے بلکہ سرکاری نظامِ تعلیم کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔