Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

کوئٹہ(ویب ڈیسک) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹریز (پی او ایف) واہ کا دورہ پاکستان کی دفاعی پیداوار کو جدید خطوط پر استوار کرنے، ملکی دفاعی صنعت کو مزید مضبوط بنانے اور اسے عالمی دفاعی منڈی میں ایک مؤثر برآمدی قوت بنانے کے حوالے سے دور رس اثرات مرتب کرے گا۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پی او ایف واہ کا دورہ اس بات کا واضح اظہار ہے کہ پاکستان دفاعی پیداوار، جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی خود انحصاری کو قومی سلامتی کی ترجیحات میں اہم مقام دے رہا ہے۔ اس دورے سے دفاعی پیداواری اداروں میں جدید ٹیکنالوجی، تحقیق و ترقی، معیار اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے عمل کو مزید تقویت ملنے کی توقع ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ پاکستان کے پاس پاکستان آرڈیننس فیکٹریز، پاکستان ایئروناٹیکل کمپلیکس، ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا اور کراچی شپ یارڈ جیسے اداروں کی صورت میں ایک مضبوط دفاعی صنعتی بنیاد موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اداروں کی صلاحیتوں کو جدید ٹیکنالوجی، نجی شعبے کی شمولیت اور تحقیق و ترقی کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے پاکستان کو دفاعی مصنوعات کا ایک بڑا عالمی برآمد کنندہ بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ دفاعی پیداوار کو صرف ملکی ضروریات پوری کرنے تک محدود رکھنا اب کافی نہیں۔ عالمی مارکیٹ میں مسابقت کیلئے جدید الیکٹرانکس، مصنوعی ذہانت، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، پریسیڑن گائیڈڈ ویپنز اور دیگر جدید دفاعی ٹیکنالوجیز میں مسلسل سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ معیار اور تحقیق و ترقی ہی پاکستان کی دفاعی مصنوعات کو عالمی منڈی میں مستقل مقام دلا سکتی ہے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ جے ایف 17 تھنڈر، سپر مشاق تربیتی طیاروں، شاہپر ڈرونز، فضائی دفاعی نظام اور بکتر بند گاڑیوں سمیت متعدد پاکستانی دفاعی مصنوعات میں عالمی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ جے ایف 17 تھنڈر کی نسبتاً کم قیمت، آپریشنل تجربہ اور جدید بلاک III صلاحیتیں اسے ترقی پذیر ممالک کیلئے ایک پرکشش دفاعی پلیٹ فارم بناتی ہیں۔ نائجیریا، میانمار اور آذربائیجان پہلے ہی جے ایف 17 کے صارفین ہیں جبکہ دیگر ممالک نے بھی اس میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ پاکستان کو دفاعی برآمدات کے فروغ کیلئے سعودی عرب، ترکیہ، آذربائیجان، انڈونیشیا، بنگلہ دیش، عراق، افریقی ممالک اور وسطی ایشیا کی مارکیٹوں کو ترجیح دینی چاہیے۔ خصوصاً افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں کم لاگت، قابلِ اعتماد اور مؤثر دفاعی مصنوعات کیلئے وسیع گنجائش موجود ہے جس سے پاکستان کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دفاعی برآمدات کو صرف ہتھیاروں کی فروخت تک محدود نہیں رکھا جانا چاہیے بلکہ خریدار ممالک کو تربیت، اسپیئر پارٹس، مرمت، اپ گریڈیشن، تکنیکی معاونت اور مشترکہ پیداوار کے جامع پیکیجز پیش کیے جائیں۔ اس سے پاکستان کو طویل المدت دفاعی صنعتی شراکت داری قائم کرنے میں مدد ملے گی اور برآمدات کو مستقل آمدن میں تبدیل کیا جا سکے گا۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے پی او ایف واہ کے دورے کے اثرات دفاعی پیداوار کے اداروں کی کارکردگی، جدید کاری اور عالمی سطح پر مارکیٹنگ کے حوالے سے بھی نمایاں ہو سکتے ہیں۔ دفاعی صنعت کو خود کفالت سے آگے بڑھا کر ایک عالمی برآمدی طاقت بنانے کیلئے واضح اہداف، ادارہ جاتی اصلاحات اور مستقل پالیسی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی دفاعی مصنوعات کو بین الاقوامی سرٹیفکیشن، مضبوط بعد از فروخت سروس، جدید تحقیق و ترقی اور نجی شعبے کی مؤثر شمولیت سے جوڑنا ہوگا۔ ڈیفنس ایکسپورٹ پروموشن آرگنائزیشن کو ایک فعال عالمی مارکیٹنگ پلیٹ فارم بناتے ہوئے بیرونِ ملک دفاعی نمائشوں میں پیشہ ورانہ تجارتی حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ دفاعی پیداوار کو خود کفالت سے عالمی برآمدی طاقت تک لے جانے کا وقت آچکا ہے۔ اگر موجودہ عالمی دلچسپی کو منظم حکمتِ عملی، جدید ٹیکنالوجی اور مضبوط مارکیٹنگ کے ذریعے مستقل برآمدی آمدن میں تبدیل کیا جائے تو دفاعی صنعت پاکستان کیلئے زرمبادلہ، روزگار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صنعتی خود انحصاری کا اہم ستون بن سکتی ہے۔