Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیر صحت مصطفی کمال سید نے کہاہے کہ وزیر صحت ہوں، خود کو پمز واقعے کا ذمے دار سمجھتا ہوں،اپوزیشن اپنی کمیٹی بنائے اور واقعے کی تحقیقات کرے، تاہم تحقیقات کے لیے 40 روز کی مدت مقرر نہ کی جائے۔ وزیر صحت مصطفی کمال نے پمز واقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں وزیرِ صحت ہوں اور خود کو اس معاملے کا ذمہ دار سمجھتا ہوں، اسی لیے میں نے خود کو پیش کیا ہے۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں مصطفی کمال نے اپوزیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی کمیٹی بنائے اور واقعے کی تحقیقات کرے، تاہم تحقیقات کیلئے 40 روز کی مدت مقرر نہ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ کون کہہ رہا ہے کہ پاکستان میں صحت کے نظام کی مثالی صورتِ حال ہے؟ روزانہ تقریباً 1300بچے پورے ملک میں جان کی بازی ہار رہے ہیں، دنیا میں بچوں کی یومیہ اموات سب سے زیادہ پاکستان میں ہو رہی ہیں۔وزیرِ صحت نے کہا کہ آئیں بیٹھ کر اگلے بچے کو مرنے سے بچانے کا راستہ نکالیں، صحت کا نظام سڑ چکا ہے، جسے درست کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔مصطفی کمال نے کہا کہ آج کا دن ختم ہونے تک مزید 1300بچے جاں بحق ہو چکے ہوں گے، حالانکہ ان میں سے کئی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی کی نیت نہیں کہ رپورٹ چھپائی جائے یا کسی کو بچایا جائے، ایک آدمی کو بھی نہیں بخشا جائے گا، چاہے وہ کتنا ہی بڑا ترم خان کیوں نہ ہو۔وزیرِ صحت نے کہا کہ رپورٹ آنے دیں، اسے پڑھیں، کوئی کہیں نہیں جا رہا، یہ معاملہ کسی صورت دبنا نہیں چاہیے۔انہوں نے اپوزیشن سے کہا کہ معاملے کو صرف تاریخوں اور کمیٹیوں تک محدود نہ کریں، حکومت کو آگے کا لائحہ عمل دیں اور گائیڈ کریں، حکومت اپنا اِن پٹ دے گی۔مصطفی کمال نے کہا کہ سالانہ تقریباً 4لاکھ بچے مر جاتے ہیں، ہمیں اس مسئلے کا مستقل حل نکالنا ہو گا، صحت کے نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پمز واقعے کو بنیاد بنا کر ہم مستقبل میں بچوں کی جانیں بچا سکتے ہیں، ہر کوئی کہتا ہے کہ اس برے کو ہٹا کر میری مرضی کا بندہ لگا دو، لیکن ہمیں نظام کو ٹھیک کرنا ہو گا۔وزیرِ صحت نے بتایا کہ وزیرِ اعظم کی قائم کردہ کمیٹی کی رپورٹ آج رات تک آنے کی توقع ہے، اپوزیشن رپورٹ کا جائزہ لے کر نشاندہی کرے کہ کہاں سقم رہ گیا۔انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم سے لے کر کسی کی بھی نیت کسی کو بچانے کی نہیں، کوئی نہیں بچے گا، تمام افسران کو لائن حاضر کیا جائے گا۔مصطفی کمال نے اراکینِ اسمبلی سے کہا کہ کسی بھی ایم این اے یا سینیٹر کو فون کر کے یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ فلاں شخص کو کیوں ہٹایا گیا، کیونکہ سب کے لوگ نظام میں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ نرسری میں 15 بچے موجود تھے، جن میں سے صرف ایک بچے کو اسٹاف نے بچایا، کسی خالہ یا پھوپھی نے نہیں۔