پمز اسپتال کی نرسری میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کی مکمل، غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں،صوبائی مشیر ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی

کوئٹہ(ویب ڈیسک)صوبائی مشیر محکمہ ترقیِ نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے پمز اسپتال کی نرسری میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کے المناک واقعے پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے انتہائی دلخراش سانحہ قرار دیا ہے۔اپنے بیان میں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ معصوم نومولود بچوں کی اس المناک انداز میں ہلاکت ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے جس نے ہر صاحبِ دل کو غمزدہ کر دیا ہے۔ نومولود بچے اپنے والدین کے لیے امید، خوشی اور روشن مستقبل کی علامت ہوتے ہیں اور ایسے معصوم بچوں کا اس طرح دنیا سے چلے جانا انتہائی تکلیف دہ اور ناقابلِ بیان صدمہ ہے۔انہوں نے جاں بحق ہونے والے بچوں کے والدین اور اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ اور آزمائش کی اس مشکل گھڑی میں ہم متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ سوگوار والدین اور اہلِ خانہ کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل عطا فرمائے اور جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ اس نوعیت کے واقعات نہ صرف انتہائی افسوسناک ہیں بلکہ اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے نظام کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کا تقاضا بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پمز اسپتال کی نرسری میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کی مکمل، غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، واقعے کے تمام محرکات اور وجوہات سامنے لائی جائیں اور اگر کسی سطح پر غفلت، لاپروائی یا انتظامی کوتاہی ثابت ہو تو ذمہ دار عناصر کا تعین کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے کہا کہ انسانی جان، بالخصوص نومولود بچوں کی زندگی کے تحفظ کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ سرکاری و نجی اسپتالوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات، بجلی کے نظام، ہنگامی اخراج کے راستوں، فائر الارم، آگ بجھانے کے آلات اور ایمرجنسی رسپانس کے طریقہ? کار کا باقاعدگی سے معائنہ اور مؤثر نگرانی ناگزیر ہے۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ اسپتالوں، بالخصوص نرسریوں، نیونٹل یونٹس، انتہائی نگہداشت کے شعبوں اور بچوں کے وارڈز میں حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے اور طبی و معاون عملے کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ تربیت اور ضروری سہولیات فراہم کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ اس دلخراش سانحے سے سبق لیتے ہوئے طبی اداروں میں حفاظتی نظام کا ازسرِنو جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کا تدارک کیا جاسکے اور اسپتالوں میں زیرِ علاج بچوں، مریضوں، تیمارداروں اور طبی عملے کی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جاسکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *