Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
کوئٹہ(ویب ڈیسک) تحریک نفاذ فقہ جعفریہ بلوچستان کے ترجمان و لسان تحریک طارق احمد جعفری نے کہا ہے کہ سرکار مدینہ ؐ کی حیات مبارکہ ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے آپؐکی آمد سے دنیا میں ظلم و ستم کے بادل چھٹ گئے اور اسلام کا جھنڈا بلند ہو گیانبیؐکے بتائے ہوئے احکامات پر عمل کرکے دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے، میلادِ مصطفیٰ ؐپوری امتِ مسلمہ کے لیے اتحاد و اخوت کا عظیم پیغام ہیہفتہ وحدت و اخوت منانے کا مقصد محبتِ رسولؐ، باہمی احترام اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کو فروغ دینا ہے، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے اتحادِ امت، ملکی سلامتی، امن و استحکام اور بین المسالک ہم آہنگی کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔یہ بات انہوں نے جشن عید میلا النبیؐ کے حوالے سے ہزارہ ٹاؤن سے نکالے گئے جلو س کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔طارق احمدجعفر ی نے کہا کہ حسب فرمان قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید حامد علی شاہ موسوی النجفی اور تجدید اعلان سربرہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان علامہ سید حسین مقدسی کے اعلان کے مطابق ہفتہ وحدت واخوت 12تا 18ربیع الاول منایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰؐ کی ولادت باسعادت پوری انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور رحمت ہے آپ ؐکی سیرتِ طیبہ ہمارے لیے امن، محبت، برداشت، بھائی چارے، عدل و انصاف اور انسانیت کی خدمت کا عملی نمونہ ہے۔انہوں نے کہا کہ عید میلاد النبیؐ ہمیں اس عہد کی تجدید کا موقع فراہم کرتی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو حضور اکرمؐ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں اور معاشرے میں محبت، اخوت اور رواداری کو فروغ دیں نبی کریم ؐ نے انسانوں کے درمیان رنگ، نسل، زبان اور طبقے کی تفریق ختم کرکے مساوات اور بھائی چارے کا درس دیا۔ انہوں نے کہا کہ عید میلاد النبیﷺ ہمیں اس عظیم ہستی کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی یاد دہانی کراتی ہے جنہوں نے انسانیت کو جہالت، ظلم اور ناانصافی کے اندھیروں سے نکال کر علم، عدل اور اخوت کی روشنی عطا کی۔انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ ہمارے لیے ایک مکمل ضابط حیات ہے آپﷺ نے عدل و انصاف، دیانت داری، امانت، مساوات اور باہمی احترام کو معاشرے کی بنیاد بنایا۔آج ہمیں درپیش چیلنجز کا مقابلہ بھی انہی سنہری اصولوں کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنا کر کیا جاسکتا ہے