6سالہ معصوم بچے کو بے دردی سے قتل کرکے لاش گھر کے سامنے پھینک دینا انتہائی سفاکانہ اور انسانیت سوز عمل ہے، مولانا عبدالرحمن رفیق

کوئٹہ (ویب ڈیسک)جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، ڈپٹی سیکرٹری جنرل حاجی بشیر احمد کاکڑ، حافظ شبیر احمد مدنی، حاجی رحمت اللہ کاکڑ، سید حاجی عبدالواحد آغا، حافظ مسعود احمد، حاجی محمد قاسم خلجی، حاجی ولی محمد بڑیچ، صفی اللہ مینگل اور شاہ زاہد مشوانی نیسبزل رڈ کوئٹہ میں 6 سالہ معصوم بچے کی بوری بند لاش برآمد ہونے کے دلخراش اور انسانیت سوز واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم بچے کو بے دردی سے قتل کرکے اس کی لاش گھر کے سامنے رکھ دینا انسانیت سوز عمل ہے جس نے ہر صاحبِ احساس انسان کو صدمے سے دوچار کردیا ہے انہوں نے کہا کہ معصوم بچہ تین روز تک لاپتہ رہا مگر پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے اس کی تلاش اور بازیابی کے لیے وہ سنجیدگی اور عملی اقدامات نظر نہیں آئے جو ایسے حساس معاملے میں ضروری تھے۔ اگر بروقت کارروائی عمل میں لائی جاتی تو شاید صورتحال اس المناک انجام تک نہ پہنچتی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے پولیس نظام میں محض ایف آئی آر کا اندراج کرکے ذمہ داری پوری سمجھ لینے کا رجحان پایا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ شہریوں کے تحفظ اور لاپتہ افراد کی بروقت بازیابی کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس واقعے میں غفلت اور کوتاہی کے ذمہ دار اہلکاروں اور افسران کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سفاکانہ واقعات معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حسی بدامنی اور قانون شکنی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک معصوم بچے کی جان لینا اور اس کے اہلِ خانہ کو ناقابلِ بیان کرب اور اذیت سے گزارنا انتہائی ظلم اور بربریت ہے۔ اس واقعے نے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور یہ امر واضح کرتا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف فوری اور بلاامتیاز کارروائی ناگزیر ہوچکی ہے۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں سفاک قاتلوں اور ان کے سہولت کاروں کو بلا تاخیر گرفتار کرکے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے انہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معصوم بچوں سمیت ہر شہری کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور ایسے انسانیت سوز واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں تاکہ معاشرے میں امن اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *