ضلع کیچ میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی نجی اسکولوں میں فیسوں، کتابوں، کاپیوں، بیگز اور دیگر اسٹیشنری کی قیمتوں میں مبینہ اضافے کا اظہار

تربت (ویب ڈیسک) ضلع کیچ میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی نجی اسکولوں میں فیسوں، کتابوں، کاپیوں، بیگز اور دیگر اسٹیشنری کی قیمتوں میں مبینہ اضافے پر والدین اور عوامی حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے مختلف مدات میں اضافی اخراجات عائد کیے جا رہے ہیں، جس سے پہلے ہی مہنگائی سے متاثرہ خاندانوں کے لیے بچوں کی تعلیم جاری رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
عوامی حلقوں کے مطابق ضلع کیچ میں اسکول کھلتے ہی بعض نجی اسکول مالکان کی جانب سے مبینہ طور پر موسم گرما کی تعطیلات کی فیس بھی وصول کی جا رہی ہے، جبکہ متعدد جماعتوں کے لیے کتابوں میں تبدیلی کرکے والدین کو نئی کتابیں خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ بعض اسکولوں کی جانب سے مقررہ یا تجویز کردہ اسٹیشنری کے بجائے مخصوص دکانوں سے کتابیں، کاپیاں اور بیگز خریدنے کا تقاضا کیا جاتا ہے، جہاں یہ اشیاء  مبینہ طور پر مارکیٹ کے مقابلے میں مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہیں۔متعدد والدین نے بتایا کہ نئے تعلیمی سال کے آغاز پر فیسوں میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ کتابوں، کاپیوں، بیگز اور دیگر اسٹیشنری کی قیمتیں بھی بڑھا دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف مہنگائی نے گھریلو بجٹ متاثر کر رکھا ہے اور دوسری جانب بچوں کی تعلیم کے اخراجات میں مسلسل اضافہ والدین کے لیے شدید مالی مشکلات پیدا کر رہا ہے۔والدین کا مزید کہنا تھا کہ بعض نجی اسکولوں میں فیس، کتابوں اور یونیفارم سمیت مختلف اخراجات کے حوالے سے واضح اور شفاف نظام موجود نہیں، جس کے باعث والدین کو اپنی مرضی کے مطابق مقرر کردہ اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی والدین کی جانب سے اضافی فیس یا مہنگی اسٹیشنری پر اعتراض کیا جائے تو انہیں مناسب جواب نہیں ملتا۔عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ، محکمہ تعلیم اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع کیچ کے تمام نجی اسکولوں کی فیسوں، تعطیلات کی فیس، کتابوں، کاپیوں، بیگز اور اسٹیشنری کی قیمتوں کا فوری جائزہ لیا جائے اور والدین سے مبینہ طور پر غیر ضروری یا اضافی وصولیوں کا نوٹس لیا جائے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ نجی اسکولوں کو پابند کیا جائے کہ وہ فیس اور دیگر تعلیمی اخراجات کے حوالے سے حکومتی قواعد و ضوابط کی پابندی کریں، والدین کو مخصوص دکانوں سے مہنگی کتابیں اور اسٹیشنری خریدنے پر مجبور نہ کیا جائے اور کسی بھی قسم کی مبینہ من مانی کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ضلعی انتظامیہ نے بروقت نوٹس نہ لیا تو نجی تعلیمی اداروں میں فیسوں اور دیگر اخراجات کے حوالے سے من مانیاں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ انہوں نے حکومت بلوچستان اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا کہ والدین کو ریلیف فراہم کرنے اور نجی اسکولوں کے معاملات کو ضابطے میں لانے کے لیے فوری طور پر عملی اقدامات کیے جائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *