بلوچستان میں افغان اور ہزارہ مہاجرین کی بلاک شدہ شناختی کارڈر پر کوئی سمجھوتہ قابل قبول نہیں، 1979، نیشنل پارٹی

کوئٹہ(ویب ڈیسک) نیشنل پارٹی بلوچستان کے صوبائی ترجمان نے1979کے بعد اگغانستان سے آنے والے افغانی اور ہزارہ مہاجرین کو جاری کردہ شناختی کارڈز کو بلاک کرنے کے عمل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ 1979 میں بلوچستان پر مہاجرین کا یلغار ہوا اور پھر ان مہاجرین کو لاکھوں کی تعداد میں جعلی مینوئل شناختی کارڈ جاری کی گئیں جن میں افغان، ہزارہ اور ازبک مہاجرین شامل ہیں نادرا کا سسٹم کمپیوٹرائزڈ ہونے کے بعد ان مہاجرین کو جاری شدہ شناختی کارڈز کی نشاندہی ہوگئی جنہیں نادرا اور محکمہ داخلہ نے بلاک کر رکھا ہے جن کو ان بلاک کرنے کے لیہے بارہا نادرا پر سیاسی دباو ڈالا جارہا ہے جس کی نیشنل پارٹی ذمہ دار قومی، سیاسی و جمہوری جماعت کی حیثیت سے مذمت کرتا ہے اور محکمہ داخلہ حکومت پاکستان اور نادرا سے مطالبہ کرتا ہے ان تمام شناختی کارڈز کو منسوخ کیئے جاہیں اور اس حوالے سے کوئی سیاسی دباو قبول نہیں کیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *