Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز ایجنسیاں)بھارتی ریاست تلنگانہ میں پولیس نے 48 سالہ اسکول پرنسپل اور ڈائریکٹر کلو روپا ریڈی کے قتل کا معمہ حل کرتے ہوئے دسویں جماعت کے دو طلبہ کو گرفتار کر لیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق روپا ریڈی 12 اگست کو اپنے گھر میں مردہ پائی گئی تھیں، ان کے جسم پر چاقو کے 27 وار کیے گئے تھے، مقتولہ کے شوہر حیدرآباد میں موجود تھے جنہوں نے فون پر رابطہ نہ ہونے پر پڑوسیوں کو اطلاع دی، جس کے بعد پولیس نے گھر پہنچ کر لاش برآمد کی۔پولیس نے تفتیش کے لیے 5 ٹیمیں تشکیل دیں اور سی سی ٹی وی، فرانزک شواہد، انگلیوں کے نشانات، تکنیکی معلومات اور مشتبہ افراد کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا، اس دوران 80 سے زائد افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔بھارتی میڈیا کے مطابق تفتیش میں اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب معلوم ہوا کہ فون بند ہونے سے پہلے روپا ریڈی نے اپنی خالہ سے گفتگو کے دوران آخری لفظ بابو کہا تھا، پولیس نے اس لفظ کی بنیاد پر اسکول کے طلبہ سے تفتیش شروع کی۔تفتیش کے دوران دسویں جماعت کے 50 طلبہ پر توجہ مرکوز کی گئی جو کئی دن سے اسکول سے غیر حاضر تھے، ان میں سے 2 طلبہ کو حالیہ دنوں میں غیر معمولی طور پر رقم خرچ کرتے اور پارٹیاں کرتے دیکھا گیا تھا جس کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا۔پولیس کے مطابق دونوں طلبہ نے دورانِ تفتیش قتل کی منصوبہ بندی اور واردات کا اعتراف کر لیا۔پولیس کا کہنا تھا کہ دونوں طلبہ کو مقتولہ روپا ریڈی نے ڈانٹا تھا کیونکہ ان کے ہاسٹل بیگز سے نقد رقم اور ایک موبائل فون برآمد ہوا تھا، پرنسپل نے ان کے والدین کو اطلاع دی اور دونوں کو ہاسٹل سے نکال کر روزانہ اسکول آنے والا طالب علم بنا دیا تھا، پولیس کو شبہ ہے کہ اس واقعے سے ان کے دل میں پرنسپل کے خلاف ناراضی پیدا ہوئی۔پولیس کے مطابق دونوں طلبا نے تقریبا 5 دن تک قتل اور چوری کی منصوبہ بندی کی اور روپا ریڈی کے گھر کی نگرانی بھی کی، طلبہ نے چاقو اور شناخت چھپانے کے لیے دستانے بھی خریدے۔واردات کے روز ایک طالب علم بندر نما ماسک اور دستانے پہن کر گھر میں داخل ہوا، اسے بیڈ روم میں ڈھائی لاکھ روپے نقد ملے، فرار ہوتے وقت اس کا ماسک چہرے سے ہٹ گیا تھا اور روپا ریڈی نے اسے پہچان لیا، شناخت ظاہر ہونے کے خوف سے طالب علم نے چاقو سے اپنی پرنسپل پر 27 وار کر دیے۔قتل کے بعد ملزمان نقد رقم لے کر فرار ہوگئے، انہوں نے خون آلود کپڑے اور ٹوپی دفن کر کے شواہد چھپانے کی کوشش کی اور بعد ازاں گوا چلے گئے۔پولیس نے ملزمان کے قبضے سے ڈیڑھ لاکھ روپے نقد، جن میں خون کے دھبوں والے بعض نوٹ بھی شامل ہیں، ایک نیا آئی فون اور روپا ریڈی کا موبائل فون برآمد کر لیا ہے۔تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ دونوں طلبہ نے واردات سے قبل ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم پر جلد پیسے کمانے کے طریقے تلاش کیے تھے۔