Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

اسلام آباد +کوئٹہ(ویب ڈیسک) پٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے کہا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، جبکہ نوجوانوں اور خواتین کو کاروباری مواقع، آسان مالی وسائل، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنا ملکی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے راولپنڈی چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹریز کے زیر اہتمام انٹرنیشنل ایس ایم ایز ایکسیلینس ایوارڈز 2026 کی اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے راولپنڈی چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹریز کو شاندار تقریب کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے صدر سردار ثاقب نسیم اور چیئرمین ایوارڈ کمیٹی محمد رؤف راجہ کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری افراد اور اداروں کی محنت، جدت اور عزم کو سراہنا نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی ہے بلکہ دیگر نوجوانوں اور کاروباری افراد کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے۔سیدال خان نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 71 لاکھ 40 ہزار مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز کام کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ایک چھوٹے کاروبار کو مضبوط کرنا دراصل ایک خاندان، ایک کمیونٹی اور ملک کے معاشی مستقبل کو مضبوط کرنا ہے۔ پاکستان کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو صرف ملازمت کے متلاشی نہ ہوں بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بھی بنیں۔ ایک کامیاب کاروباری شخص اپنے لیے آمدنی کے ساتھ ساتھ دوسروں کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں، تاہم ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر، سرمایہ، ٹیکنالوجی، تربیت، رہنمائی اور مارکیٹ تک رسائی بھی ضروری ہے۔ نوجوانوں کو یہ اعتماد دینا ہوگا کہ وہ اپنے آئیڈیاز کو کامیاب کاروبار، اداروں اور بین الاقوامی برانڈز میں تبدیل کرسکتے ہیں۔سیدال خان نے ایس ایم ایز کو درپیش مالی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آسان اور کم لاگت مالی وسائل تک رسائی ایک اہم چیلنج ہے۔ حکومت کی جانب سے ایس ایم ای فنانسنگ اور مالی شمولیت کے فروغ کے لیے اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔ 2026-28 ایکسس ٹو فنانس پلان میں بھی ایس ایم ایز سمیت ترجیحی شعبوں کے لیے آسان اور قابلِ برداشت قرضوں تک رسائی بڑھانے پر توجہ دی گئی ہے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے خواتین کی معاشی شمولیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کاروباری افراد کو مالی وسائل، تربیت، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مقامی و عالمی منڈیوں تک بہتر رسائی فراہم کرنا ہوگی۔ خواتین کی معاشی شمولیت کے بغیر پاکستان کی مکمل معاشی ترقی ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی ایس ایم ایز کو صرف مقامی مارکیٹ تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ای کامرس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی معیار کی مصنوعات کے ذریعے بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنی چاہیے۔ ایس ایم ایز کو عالمی ویلیو چینز کا حصہ بنا کر پاکستان کے لیے زرمبادلہ، روزگار اور معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔سیدال خان نے کہا کہ پارلیمان کا کردار صرف قانون سازی تک محدود نہیں بلکہ ایسی پالیسیوں اور قوانین کی تشکیل بھی ہماری ذمہ داری ہے جو کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کریں۔ آسان کاروبار، شفاف نظام، مستحکم پالیسیوں، کم رکاوٹوں اور سرمایہ کاری کے بہتر مواقع کے ذریعے مضبوط معاشی بنیاد قائم کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کاروباری برادری کو یقین دلایا کہ پارلیمان ملک کے معاشی مفادات اور کاروباری طبقے کے مسائل کو سنجیدگی سے دیکھتی ہے، جبکہ کاروباری برادری کی تجاویز اور تجربات پالیسی سازی کے عمل میں انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے انٹرنیشنل ایس ایم ایز ایکسیلینس ایوارڈز 2026 حاصل کرنے والے کامیاب کاروباری افراد اور اداروں کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایوارڈ صرف اعزاز نہیں بلکہ مزید محنت، جدت اور قومی ذمہ داری کا تقاضا بھی ہے۔ کامیاب کاروباری افراد کی کامیابی دوسرے نوجوانوں کے لیے امید اور حوصلے کا ذریعہ ہے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ مضبوط ایس ایم ایز، مضبوط کاروباری طبقہ اور بااختیار نوجوان ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہیں۔